سپریم کورٹ جسٹس صدیقی کا کیس کس کے دباؤ پر نہیں سن رہی؟


اکتوبر 2018 میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے کی پاداش میں بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ سے فارغ کر دئیے جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پچھلے دو برس سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں. لیکن ایسا لگتا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو فارغ کروانے والی غیر مرئی طاقتیں انکی جانب سے دائر کردہ برطرفی کے خلاف اپیل پر فیصلے میں جان بوجھ کر تاخیر کروا رہی ہیں تاکہ وہ جون 2021 میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں۔
برطرفی کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست کی آخری سماعت 16 دسمبر 2020 کو سپریم کورٹ میں ہوئی تھی جب ان کے وکلا نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کیس کے فیصلے کو انکی ریٹائرمنٹ کے پیش نظر لٹکایا جارہا ہے۔ تاہم چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ہم جسٹس شوکت عزیز کی ریٹائرمنٹ سے پہلے فیصلہ دے دیں گے۔ کیس کی اگلی سماعت جنوری کے لیے مقرر کی گئی تھی لیکن اب فروری کا مہینہ جا رہا ہے اور اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button