سپریم کورٹ میں نئے جج کی تقرری اگلے چیف جسٹس پر چھوڑی جائے


سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک جونیئر جج جسٹس عائشہ ملک کی مجوزہ ترقی کے خلاف اپنی تحریک میں تیزی لاتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس گلزاراحمد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ معاملہ اپنے جانشین یعنی اگلے چیف جسٹس کیلئے مؤخر کر دیں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی مدت معیاد فروری میں ختم ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں منظور کی گئی مشترکہ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ مناسب ہوگا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ میں ترقی کے معاملے کو اگلے چیف جسٹس پر چھوڑ دیں کیونکہ یہ معاملہ متنازعہ ہو چکا ہے۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان اور کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد مسعود چشتی بطور خاص مدعو کیے گئے تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بار کے صدر احسن بھون چیف جسٹس کے نوٹس میں ان کے اپنے طے کردہ اصول لائے جسکے مطابق اگر کسی چیف جسٹس کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے تو اسے سپریم کورٹ میں ججوں کی ترقی کا عمل ترک کر دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ موجودہ چیف جسٹس یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ چونکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے اور ان کے ریٹائر ہونے میں صرف ایک ماہ باقی ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس متنازعہ معاملے کو اپنے جانشین کے لیے مؤخر کر دیں۔ بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس احسن بھون کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں جسٹس عائشہ ملک کو عدالت عظمیٰ کی بطور پہلی خاتون جج ترقی دینے کے لیے 4 جنوری کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے بلائے گے اجلاس کو بھی موخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس حوالے سپریم کورٹ پر دباؤ بڑھانے کے لیے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے بار کی ایگزیکٹو کمیٹیوں کے وائس چیئرمینوں، جوڈیشل کمیشن کے وکلا ممبرز، سپریم کورٹ بار کے صدر، صوبائی اور اسلام آباد بار کونسلز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کو 3 جنوری کو ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے تاکہ اگلا لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔ سپریم کورٹ بار کے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175-اے میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا جو عدالتوں میں ججوں کے تقرر کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اسکے عکاوہ آرٹیکل 209، میں بھی ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اعلیٰ عدالت کے جج کو ہٹانے کے طریقے بتاتا ہے۔
احس بھون نے کہا کہ ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے تقرر، ترقی یا برطرفی سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی گئی باڈی کو بااختیار بنا کر دونوں فورمز یعنی جے سی پی اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک میں ضم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل پر نظرثانی کی جائے اور بار کی تنظیموں کے کم از کم دو نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں کے مساوی نمائندوں کو کمیشن میں نمائندگی دی جائے۔ احسن بھون کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہائی کورٹس میں کسی جج کی ترقی کے لیے وہی معیار اپنایا جائے جس میں چیف جسٹس اور متعلقہ ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کے ساتھ ساتھ متعلقہ بار کونسل کے ایک ممبر اور پی بی سی کے ایک ممبر کے ساتھ مشاورت کی جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اس وقت لاہور ہائی کورٹ کی ایک جونیئر جج جسٹس عائشہ ملک کو ترقی دے کر سپریم کورٹ لیجانے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کر رہی کہ سنیارٹی میں پہلے نمبر پر آنے والے جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دی جائے۔ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دے دی جائے۔

Back to top button