سپریم کورٹ نے حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی روک دی

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو وفاقی حکومت کی جانب سے موٹروے پر ہیوی بائیکس کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمٰن کے توسط سے دائر وفاقی حکومت کی درخواست پر حکم امتناع جاری کیا۔
سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کی توجہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر کارروائی کی جانب مبذول کروائی۔ سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 10 دسمبر 2018 کو حکومت کو موٹروے پر ہیوی بائیک چلانے کی اجازت دینے کے لیے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) بہتر بنانے کے حکم کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔
وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ موٹروے کی ہائی اسپیڈ لینز میں ہیوی موٹر سائیکلز عوام کے تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔
مذکورہ تنازع حکومت کی جانب سے وزارت مواصلات، موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی ویز کے انسپکٹر جنرل کی ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خضلاف سپریم کورٹ میں دائر مشترکہ درخواست سے متعلق ہے۔
تاہم عدالت عظمیٰ نے لاہور بائیکرز کلب کے صدر کے وکیل ایڈووکیٹ بابر ستار کے امریکا میں پھنسے ہونے کی وجہ سے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔ وفاقی حکومت کی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے متعلقہ روڈ سیفٹی قوانین بے کار کردیے جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل رکشہ تک موٹروے پر چلایا جاسکتا ہے، عدالت عظمیٰ سے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد-لاہور موٹروے (ایم 2) کی تعمیر کے بعد نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 کے تحت موٹروے پولیس کو قومی شاہراہوں پر ٹریفک کو ریگولیٹ اور کنٹرول کرنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ ایم-2 موٹروے پر موٹر سائیکل چلانے پر روزِ اول سے پابندی عائد ہے۔
مذکورہ پالیسی ہائی ویز اور موٹروے کوڈ رول 202 میں شامل ہے، روڈ ٹریفک کے ویانا کنوینشن کے مطابق سڑک کے اصولوں سے متعلق حکومتی دستاویز 1968 میں تیار کی گئی تھی۔ اس پابندی سے صرف موٹروے پولیس کو پٹرولنگ کے لیے 500 سی سی کی موٹر سائیکل استعمال کرنے کا استثنیٰ حاصل تھا لیکن اسے بھی حفاظت کی وجہ سے جاری نہیں رکھا گیا اور بائیکس کو کاروں سے پیٹرول کاروں میں تبدیل کردیا گیا۔
خیال رہے کہ 19 دسمبر 2009 کو وزیراعظم سیکریٹریٹ نے لاہور بائیکرز کلب پریزیڈنٹ برہان محمد خان کی ایک درخواست آگے بڑھائی تھی جس میں موٹروے پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت مانگی گئی تھی تاہم نیشنل ہائی موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) نے 15 فروری 2010 کو یہ درخوات مسترد کردی تھی۔
بعدازاں 6 اپریل 2010 میں موٹروے پولیس نے 3 سال کے لیے 500 سی سی اور اس سے زائد کی موٹرسائیکل کو موٹروے پر چلانے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کیا تھا جس کی شرط یہ تھی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) ضروری سہولیات مہیا کرے گی مثلاً سڑک کی علامتوں اور نشانات کے ساتھ موٹر سائیکلوں کے علیحدہ ٹریک وغیرہ۔
تاہم بائیکس کو صرف قومی دنوں پر موٹروے پر آنے کی اجازت تھی جس کے لیے محدود تعداد میں مخصوص مدت کے لیے کارڈ جاری کیے جانے تھے۔ بعدازاں سیفٹی وجوہات، عوام کی شکایات، اوور اسپیڈنگ، زگ زیگ چلانے، اچانک موڑ کاٹنے اور لین کی خلاف ورزی پر مشروط اجازت بھی واپس لے لی گئی تھی۔
مذکورہ اجازت کی واپسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ بائیکرز کے پاس لائسنس ہوتا ہے اور اس کی موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہوتی ہے اس لیے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی، ہائی کورٹ کے دیے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور بائیکرز کلب کی درخواست پر ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کے ساتھ آزمائشی بنیادوں پر مشروط اجازت دی گئی تھی لیکن مشاہدے میں یہ بات آئی کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کے علاوہ موٹرسائیکل سوار موٹرویز پر چلنے ولی دیگر طرح کے ٹریفک کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی ٹریکس کی عدم موجودگی میں موٹر بائیکس موٹرویز کے لیے نہ تو محفوظ ہیں اور نہ ہی ٹریفک کے لیے مناسب خاص طور پر بھاری گاڑیوں کی وجہ سے بننے والا ہوا کا دباؤ موٹر سائیکل سواروں کو گرا سکتا ہے،
