سپریم کورٹ کا زمین کی منتقلی سےمتعلق 1992 کا حکم کالعدم قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف قبضہ یا طویل عرصے تک زمین رکھنے سے ملکیت کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔

فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ زبانی معاہدوں کے مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا۔ معاہدے کو ثابت کرنے کے لیے تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی تفصیل لازمی ہے، اور عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابل قبول نہیں ہوگی۔

عدالت نے درخواست گزار غلام علی کی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے۔

مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد جرگے میں صلح ہوئی اور غلام علی نے 32 کنال زمین انہیں دینے کا وعدہ کیا، اور قبضہ بھی دے دیا گیا۔ تاہم 2016 میں غلام علی نے زمین کی منتقلی رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔

ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے مدعیان کا دعویٰ خارج کیا تھا، اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور ہوا، لیکن ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

Back to top button