سینیٹ انتخابات: یوسف گیلانی بمقابلہ عبد الحفیظ شیخ، سب کی نظریں اسلام آباد کی نشست پر

پاکستان کی پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی 37 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ پنجاب سے 11 سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ پنجاب کے علاوہ دیگر تین صوبوں میں اس وقت پولنگ کا عمل جاری ہے۔
اس وقت اسلام آباد کی نشست غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے جہاں سب کی نظریں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے درمیان ہونے والے مقابلے پر ہیں۔ ان دونوں کے انتخاب کےلیے قومی اسمبلی کے اگر تمام 342 ارکان اپنا ووٹ ڈالیں تو پھر جو امیدوار 171 ووٹ حاصل کرے گا وہ سینیٹر منتخب ہو جائے گا۔ اب اگر عددی اکثریت پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت بظاہر حکومت کو 185 ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ اپوزیشن کے پاس 160 ارکان موجود ہیں۔ ڈسکہ میں از سر نو انتخابات کی وجہ سے اس وقت قومی اسمبلی میں ارکان کی تعداد 341 ہے۔ بدھ کو اگر یوسف رضا گیلانی 171 ووٹ حاصل کرتے ہیں تو پھر سینیٹ کے انتخابات کےلیے یہ ایک بڑا اپ سیٹ ہو گا۔ گزشتہ روز یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو نجی ٹی وی چینل پر نشر ہوئی، جس میں انہیں حکمراں جماعت کے ارکان سے ووٹ ڈالنے کے طریقے پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ علی حیدر گیلانی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ ویڈیو ان کی ہی ہے تاہم ان کے مطابق ان سے تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز نے خود رابطہ کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ ان پر پارٹی مرضی کے خلاف ووٹ ڈالنے کےلیے دباؤ ڈالا گیا تو پھر ایسی صو رت میں وہ کیا کریں گے؟ ان کے مطابق انہوں نے ان حکومتی ارکان کو ایسی صورت میں ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتایا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ میں ویڈیو میں وہ ووٹ مانگ رہے تھے۔ ان کے مطابق وہ ایک امیدوار کے بیٹے ہیں اور ووٹ مانگنا ان کا حق ہے۔ حکومت نے الیکشن کمیشن سے اس ویڈیو پر کارروائی کا مطالبہ کیا اور یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرنے سے متعلق کمیشن کو درخواست بھی دے دی۔ الیکشن کمیشن نے اس ویڈیو پر نوٹس لے کر تحقیقات کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ تاہم یوسف رضا گیلانی نے ویڈیو کو پلانٹڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو پہلے ہی جیتے ہوئے ہیں۔ جس مقصد کےلیے آئے تھے وہ پورا کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیوز کا اثر اس وقت ہوتا جب ہمارے ایم این ایز ان کے ساتھ نظر آتے۔ سابق وزیر اعظم کے مطابق حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ ان کے مطابق کل کی ویڈیو پلانٹڈ ہیں، اگر ہوتا تو باقی ایم این ایز بھی نظر آتے۔‘ سینیٹ انتخابات سے قبل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامی آرائی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں حکمراں جماعت تحریک انصاف نے اپنے ان باغی ارکان کو آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا یا پھر انہوں نے مبینہ طور پر سندھ میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔ سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے یہ مناظر ٹی وی چینلز پر بھی نشر ہوئے۔
صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کے باوجود پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت رائج پرانے طریقے یعنی خفیہ رائے شماری سے کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ایوان بالا کے یہ انتخابات ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ سینیٹ 104 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے اور ایوان بالا کے ارکان کا چھ سال کےلیے انتخاب اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہر تین سال کے بعد آدھے سینیٹرز اپنی چھ برس کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اس بار بھی سینیٹ کے آدھے ارکان ریٹائر ہو گئے ہیں مگر سابقہ قبائلی علاقے فاٹا کی خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے اس بار 52 کے بجائے 48 نشستوں پر سینیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ اپنی ڈھائی برس کی مدت میں تحریک انصاف کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں رہی مگر اب بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ اکثریت حکمران جماعت کو حاصل ہو سکے گی۔ سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہونے کی وجہ سے کوئی بھی پارٹی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی اور حکمراں جماعت تحریک انصاف کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کےلیے سرگرم نظر آ رہی ہیں۔
خیال رہے کہ سینیٹ کے ایک رکن کی آئینی مدت چھ برس ہے اور ہر تین برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور آدھے ارکان نئے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ اِس مرتبہ سینیٹ کی 48 نشستوں کےلیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان میں سے پنجاب سے 11 سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں یوں اب عملی طور پر صرف37 نشستوں پر سینیٹ کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ چاروں صوبائی اسمبلیاں سینیٹ کے انتخابات کا الیکٹورل کالج ہیں یعنی چاروں صوبوں کے صوبائی کوٹے سے آنے والے سینیٹرز اپنے اپنے صوبے کی اسمبلی کے ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے جب کہ اسلام آباد کے سینیٹرز کا انتخاب پوری قومی اسمبلی کرے گی۔ سندھ اور پنجاب سے 11 سینیٹرز کا انتخاب ہوگا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 12 سیینیٹرز منتخب ہوں گے جب کہ اسلام آباد سے 2 ارکان ایوانِ بالا کا حصہ بنیں گے۔ ایوانِ بالا کی 37 نشستوں پر انتخاب کےلیے بدھ کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سینیٹرز کے انتخاب کےلیے ووٹنگ چاروں متعقلہ صوبائی اسمبلیوں میں جب کہ اسلام آباد کی نشستوں کےلیے ووٹنگ قومی اسمبلی میں ہوگی۔ الیکشن قوانین میں طے شدہ فارمولے کے مطابق ایک نشست کے حصول کےلیے لازم قرار پانے والے ووٹوں کی تعداد کے گولڈن فگر کےلیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کُل تعداد کو مذکورہ صوبے کے حصے میں آنے والی سینیٹ کی موجود خالی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کےلیے ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کسی کو بھی پولنگ اسٹیشن میں موبائل یا کیمرا لے جانے سے منع کیا گیا ہے۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ پابندی کا اطلاق ووٹر، امیدوار اور پولنگ ایجنٹ سمیت سب پر ہو گا۔ ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ ارکان کو بیلٹ پیپر حاصل کرنے کےلیے اسمبلی سے جاری شدہ کارڈ دکھانا ہو گا۔ عام نشست کےلیے بیلٹ پیپر سفید اور خواتین کی نشست کےلیے گلابی بیلٹ پیپر جاری ہوگا۔ہدایت نامے کے مطابق بیلٹ پیپر پر ووٹر کی شناخت کا نشان لگنے پر ووٹ مسترد تصور ہو گا۔