شادی کی کوئی عمر نہیں ہوتی، جو ڈر گیا وہ مر گیا

70 برس کی عمر میں دوبارہ رشتہ ازدواج میں بندھنے والی سینئراداکارہ ثمینہ احمد کا کہنا یے کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ زندگی ایک مرتبہ ملنی ہے لہذا جب میں نے منظر صہبائی کے ساتھ شادی کا فیصلہ کر لیا تو پھر کسی بات کا خوف نہیں رہا۔ ہم دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور پھر شادی کرلی۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بچے اس معاملے پر میرے ساتھ ہیں، کسی کو کوئی اعتراض نہیں، نہ بچوں کو نہ بہن بھائیوں کو اور نہ منظر کے خاندان میں کسی کو کوئی اعتراض ہوا۔
ایک انٹرویو میں ثمینہ احمد کا شادی کی تقریب کے حوالے سے کہنا تھا کہ انکی شادی بہت سادگی سے ہوئی، جس کی ایک وجہ کرونا وباء ہے اور دوسرا وہ اور منظر بھی نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ہنگامہ ہو۔ بس میرا اور منظر کا خاندان شریک ہوا۔ ان کی دو بہنیں اور میرا بیٹا اور اس کی فیملی موجود تھی۔ انکی شادی کی تصویر جس میں وہ آف وائٹ ساڑھی اور موتیوں کا ہار پہنے منظر صہبائی کے ساتھ کھڑی ہیں، سوشل میڈیا پر آئی تو فورا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔ اس بارے ثمینہ نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتیں تھیں کہ ان کی شادی اس طرح ٹاپ ٹرینڈ بن جائے گی۔
ٹوئٹر سمیت دیگر سائٹس پر لوگوں نے نئے جوڑے کو مبارک باد دی اور کہا کہ خوشیاں پانے کے لیے دیر کبھی نہیں ہوتی، انسان جب چاہے انہیں حاصل کر سکتا ہے، اس میں عمر کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ شادی کرونا وبا ء کے دنوں میں آنے والی بری خبروں کے درمیان ایک اچھی خبر ہے۔ اس حوالے سے ثمینہ احمد کا کہنا ہے کہ ‘لوگ کیا کہیں گے، اس بات کا خوف مجھے نہیں تھا۔ لوگ تو بہت کچھ کہتے ہیں مگر اب تک میں نے سماجی رابطوں کی سائٹس پر جتنا دیکھا، وہاں لوگوں نے میرے اس فیصلے پر کوئی منفی رد عمل نہیں دیا۔ ‘میرے خیال میں ہم اکثر لوگوں کے بارے میں غلط اندازے لگا لیتے ہیں ، ہم خود سے سوچ لیتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں، وہ ٹھیک نہیں، مگر مجھے کوئی ایسا خوف نہیں تھا۔ بس ایک ہلکا سا خیال تھا کہ یہ فیصلہ لینے لگی ہوں تو کیا ہوگا؟ مگر جب آپ کا خاندان آپ کے فیصلے میں آپ کے ساتھ ہو تو فیصلہ لینا آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کبھی بھی وہ کام نہیں کرنا چاہتے جو آپ کو آپ کے خاندان سے الگ کر دے مگر پھر بھی اگر آپ کو کوئی فیصلہ لینا پڑے تو آپ لیتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ خاندان والے ایسے نہیں ہوتے جو آپ کی خوشی میں رکاوٹ بنیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان لوگوں سے کیا کہیں گی جو ان کی طرح بولڈ فیصلہ لینے کی ہمت نہیں رکھتے تو ثمینہ کا کہنا تھا ‘ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کو کبھی کوئی اچھا انسان نہ ملا ہو جس سے وہ تعلق بنا سکیں۔ اس وجہ سے بھی لوگ یہی کہہ دیتے ہیں کہ ہم اکیلے ہی ٹھیک ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ زبردستی کسی کے ساتھ رابطے میں آئیں یا کوئی ایسا تعلق بنائیں اور اس کے ساتھ رہنا شروع کر دیں جس میں وہ مزید ناخوش ہو جائیں۔ ثمینہ احمد کی دوست اور ساتھی اداکارہ عفت عمر بھی ثمینہ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں۔ عفت کا کہنا تھا ‘ثمینہ کا یہ فیصلہ بہترین ہے۔ مجھے بھی نہیں معلوم تھا اور آپ سب کی طرح مجھے بھی سماجی رابطوں کی سائٹس سے ہی معلوم ہوا۔ میرے خیال میں کرونا کے دنوں میں یہ ایک اچھی خبر سننے کو ملی ہے۔’ عفت کے خیال میں ‘ہمارے معاشرے میں یہ لازم سمجھا جاتا ہے کہ اگر بڑی عمر میں آپ کا ساتھی موجود نہیں رہا تو آپ کو زندگی اکیلے گزار دینی چاہیے۔ اب وقت ہے کہ یہ ٹیبوز ٹوٹنے چاہییں۔ آپ ایک بار زندگی جیتے ہیں، جو دل چاہتا ہے وہ کریں۔ ہاں یہ بات یقینی بنائیں کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا میں ثمینہ اور منظر کے اس فیصلے کو بے انتہا سراہتی ہوں اور دل سے ان کی خوشحال زندگی کےلیے دعا گو ہوں۔
