شان کی ترکش ڈرامے پی ٹی وی پر دکھانے کی مخالفت

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر سلطنت عثمانیہ کے متعلق مشہور ترکی ڈرامہ سرکاری چینل پی ٹی وی پر نشر کرنے کی مخالفت کرنے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
اب معروف اداکار شان شاہد نے اپنی ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ جب انہوں نے تمام غیر ملکی چیزوں کو امپورٹ پر پابندی لگا رکھی ہے تو ترکش ڈرامے کیوں امپورٹ کر کے پی ٹی وی پر دکھائے جا رہے ہیں۔
شان شاہد نے کچھ دن قبل ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ انہیں علم ہے کہ جب حالیہ معاشی بحران میں ہم بیرون ممالک کی چیزیں امپورٹ نہیں کر پا رہے تو پھر ہمارا ریاستی ٹی وی یعنی پی ٹی وی کیوں بیرون ممالک کے ڈرامے دکھا رہا ہے؟۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا تھا کہ ہمیں اپنے ٹیلنٹ پر یقین رکھنا چاہیے اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔ شان شاہد نے اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم عمران خان کو مینشن کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستسنی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ان کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ وہ ترکی کے ڈرامے پروموٹ کر رہے ہیں۔
@ImranKhanPTI sir I believe in this economic crisis we were not supporting imports .then why cultural imports are open . Why Ptv showing imported dramas believe in your own talent and history .With your supportive policies we can bring 🇵🇰🎥 on the entertainment map of the world
— Shaan Shahid (@mshaanshahid) April 28, 2020
شان شاہد کی جانب سے اپنی ٹوئٹ میں دیریلیش ارطغرل کا ذکر نہیں کیا گیا تھا مگر ان کا اشارہ اسی ڈرامے کی جانب تھا، جسے یکم رمضان المبارک سے وزیر اعظم کی فرمائش پر پاکستان ٹیلی وژن پر نشر کیا جا رہا ہے۔ اب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم نے ایک اور ٹرکش ڈرامے یونس امرے کو بھی پی ٹی وی پر نشر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ شان کا یہ خیال ہے کہ ماضی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے بھی نسیم حجازی کے لکھے گے اخری چٹان جیسے تاریخی ڈرامے بنائے گئے تھے لیکن ان کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔
شان شاہد کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے پر متعدد افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں یاد دلایا کہ دیریلیش ارطغرل دراصل اسلامی تاریخ پر مبنی اہم ڈرامہ ہے۔ لوگوں کی تنقید کے بعد شان نے وضاحت کی کہ دراصل وہ ارطغرل کے خلاف نہیں بلکہ اسے ریاستی ٹی وی پر چلانے کے خلاف ہیں۔ شان شاہد کا کہنا تھا کہ ارطغرل سے قبل بھی متعدد ترک ڈرامے نجی ٹی وی چینلز نے اردو میں ترجمہ کرکے چلائے اور انہوں نے بھی کافی شہرت حاصل کی مگر اس بار بیرون ملک کے ڈرامے کو سرکاری ٹی وی پر چلایا گیا۔ شان شاہد نے دلیل دی کہ پی ٹی وی کو عوام کے ٹیکس اور پیسے سے چلایا جاتا ہے اور اس پر بیرون ممالک کا مواد نشر کرنے کے بجائے اپنے ملک کا بنایا ہوا مواد نشر کیا جانا چاہیے۔ شان کا کہنا تھا کہ کچھ سال قبل عشق ممنوع اور میرا سلطان جیسے ترکش ڈرامے نجی ٹی وی چینلز نے نشر کیے اور انہوں نے شہرت بھی حاصل کی مگر اس بار یہ کام سرکاری ٹی وی پر کیا جارہا ہے اور یہ کہ حکومت بھی اس کام کو سپورٹ کر رہی ہے جس سے پاکستانی فنکاروں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
اداکار کے مطابق اس وقت پوری دنیا کے حالات مشکل سے گزر رہے ہیں اور پوری دنیا کے پیشہ ور لوگوں کو کچھ ہی امیدیں ہیں، ہمارے ملک میں پہلے ہی زر مبادلہ کے ذخائر کم اور مہنگائی و بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے اور ایسے کاموں سے مزید مایوسی ہوتی ہے
شان شاہد نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت بہت سارے شعبے حکومت کی مدد کے منتظر ہیں، ایسے شعبے چاہتے ہیں کہ حکومت ان پر ٹیکس کا وزن کم کرکے انہیں مالی معاونت فراہم کرے اور ایسے شعبوں میں شوبز بھی شامل ہے اور یہ شعبہ ٹیکس تو کرتا ہے مگر اس کی مدد نہیں کی جا رہی۔
ماضی کے معروف فلم ڈائریکٹر ریاض شاہد کے بیٹے اور اداکارہ نیلو کے بیٹے شان نے شکوہ کیا کہ حکومت نے کبھی کسی مقامی ڈرامے یا فلم کے فروغ کے لیے اتنا زور نہیں لگایا جتنا کہ ترکی کے ڈراموں کو پروموٹ کرنے کے لئے لگایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی ڈراموں اور فلموں کو فروغ دینے کی بجائے حکومت نے بیرون ممالک کے مواد کو عوام کو دکھانے پر زور لگا رہی ہے۔ سپر اسٹار اداکار نے کہا کہ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ امپورٹ کم کی جائے اور دوسری طرح خود ہی ثقافتی امپورٹ جاری رکھے ہوئے ہے۔
شان شاہد کے بیان سے قبل یہ خبریں بھی تھیں کہ وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ ارطغرل کے بعد ترکی کے ایک اور معروف ڈرامے یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کیا جانا چاہیے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کچھ دن قبل کہا تھا کہ عمران خان نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یونس امرے کو بھی پاکستان میں نشر کیا جانا چاہیے۔ ’یونس امرے‘ ڈرامے کو ترکی کے سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی ون نے بنایا تھا اور اس ڈرامے کا پہلا سیزن 2015 میں جب کہ دوسرا سیزن 2016 میں نشر کیا گیا تھا اور ڈرامے کی مجموعی طور پر 41 اقساط تھیں۔’یونس امرے‘ ڈرامہ دراصل 13 ویں صدی کے ترک صوفی شاعر یونس امرے کی زندگی پر بنایا گیا ہے، وہ سلطنت عثمانیہ سے 200 سال قبل پیدا ہوئے تھے۔
وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ہی پی ٹی وی نے یکم رمضان المبارک سے معروف ترک ڈرامے دیریلیش ارطغرل کو اردو میں نشر کرونا شروع کیا ہے اور مذکورہ ڈرامے کو بہت سراہا جا رہا ہے، یہاں تک خود وزیر اعظم بھی اس ڈرامے کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
