شاہ رخ خان کا بیٹا پاکستانی ہوتا تو جیل کیوں نہ جاتا؟


شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی منشیات کیس میں گرفتاری اور جیل منتقلی نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی طرح بھارت میں قانون طاقتور کی لونڈی نہیں اور بڑے سے بڑے وی آئی پی کو بھی قانون شکنی پر احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ اگر شاہ رخ خان کا بیٹا پاکستان کا شہری ہوتا اور منشیات کیس میں گرفتار ہوتا تو اس نے چند گھنٹوں بعد ہی فارغ ہو کر گھر چلے جانا تھا اور اسے جیل لیجانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کچھ پاکستانی صارفین مصر ہیں کہ شاہ رخ خان کے بیٹے کو مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، تاہم اس موقف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ آریان نے سی بی آئی کے سامنے خود سے چھ گرام ہیروئن برآمد ہونے کا اقرار کر لیا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ بھارت میں ہے، اگر وہ پاکستان میں ہوتا تو ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ یاد رہے کہ گرفتاری کے بعد سے اب تک شاہ رخ خان اور ان کے بیٹے کی ملاقات نہیں ہو پائی کیونکہ انہیں اجازت نہیں مل پائی۔ یہ بھی صرف بھارت ہی میں ہو سکتا ہے، پاکستان میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
شاہ رخ کے بیٹے آریان خان کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اب وہ ممبئی کی آرتھر روڈ جیل منتقل کر دیے گئے ہیں جہاں وہ عام قیدیوں کے ساتھ بند ہیں اور جیل کا کھانا کھا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ممبئی کے چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی جانب سے آریان خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر کے ان کو 14 دن کے لیے جیل بھیجا گیا یے۔ اب آریان ممبئی کی جیل میں عام قیدیوں کی طرح اپنا وقت گزار رہے ہیں اور انہیں کسی قسم کی کوئی وی آئی پی سہولت دستیاب نہیں۔ خیال رہے کہ پولیس حراست میں ملزم کے لیے گھر یا باہر سے کھانا منگوایا جا سکتا ہے جبکہ عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کیے جانے کے بعد قانون کے تحت ملزم دیگر قیدیوں کے ساتھ معمولات گزارتا ہے۔
شاہ رخ خان کے بیٹے اور ان کے ساتھ گرفتار دیگر پانچ ملزمان کو ممبئی کی جیل کی پہلی منزل کی سپیشل قرنطینہ بیرک میں منتقل کیا گیا ہے۔ آریان اور انکے ساتھی ملزمان کے کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس منفی آئی تھیں تاہم ان کو جیل میں دیگر قیدیوں سے میل ملاپ سے قبل قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ آریان کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں بھی لگوا چکے ہیں۔
جیل میں آریان خان کو دیگر قیدیوں کے ساتھ صبح 6 بجے جاگنا ہوگا جس کے بعد 7 بجے ناشتہ دیا جائے گا۔قیدیوں کے لیے ممبئی کی جیل میں دن کا کھانا 11 بجے ہوتا ہے جبکہ رات کے کھانے کا وقت شام 6 بجے مقرر ہے۔ ممبئی کی جیل میں قیدیوں کو ناشتے میں شیرا پوہا جبکہ دن اور رات کے کھانے میں چپاتی، دال اور چاول دیے جاتے ہیں۔ گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت تو مانگی گئی تھی لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا اور عدالتی حکم کے آنے تک شاہ رخ کے بیٹے کوعام قیدیوں کے ساتھ جیل کا کھانا لینا ہوگا۔ تاہم ان کو جیل کی کینٹین سے کھانا لینے کی اجازت ہوگی جس کے لیے الگ سے قیمت ادا کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ منشیات رکھنے کے مقدمے میں گرفتار آریان خان کے وکیل ستیش منشندے نے ضمانت کی درخواست پر دلائل میں کہا تھا کہ ان کے مؤکل کی عمر 23 برس ہے اور ان کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔ وکیل کے مطابق ’آریان خان معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے پاس انڈین پاسپورٹ ہے اور ان کی معاشرے میں جڑیں ہیں لہازا وہ فرار نہیں ہو سکتے۔ آریان خان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ’ان کے مؤکل ضمانت پر رہائی کے بعد مقدمے کے شواہد میں تبدیلی کے لیے خطرہ نہیں۔ شواہد اور دیگر ملزمان پہلے سے ہی پولیس کی تحویل میں ہیں۔‘
وکیل کے مطابق آریان سے کوئی ممنوعہ مواد برآمد نہیں کیا گیا اور ان کو صرف وی وی آئی پی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے اس سلوک کا سامنا ہے۔ تاہم عدالت نے وکیل کا موقف رد کرتے ہوئے آریان خان کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا اور جرم منتقل کرنے کا حکم جاری کردیا۔

Back to top button