شہباز حکومت اسٹیبلشمنٹ سے کیا گارنٹی چاہتی ہے؟

شہباز شریف حکومت کو ملکی معیشت سنبھالنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی گارنٹی کا انتظار ہے کیونکہ 25 مئی کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کا نتیجہ سامنے آنا ہے اور اسی روز عمران خان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت کو یہ یقین دہانی چاہیئے کہ اگر وہ معیشت کو سنبھالنے کی خاطر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مشکل اور غیر مقبول ترین فیصلہ کرتی یے تو عمران کی حکومت مخالف تحریک کو عسکری ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا۔ شہباز شریف حکومت آئی ایم سے کوئی ڈیل سائن کرنے سے پہلے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کی ضمانت چاہتی ہے تاکہ اسے آئندہ سال اگست تک اپنے دور اقتدار کی بقیہ مدت پوری کرنے میں کوئی مسائل درپیش نہ ہوں۔ حکومت کے فیصلہ سازوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ویسی ہی غیر مشروط حمایت مانگی ہے جیسی کہ عمران کو پچھلے ساڑھے تین برس میں ملی۔
باخبر ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد اگلے برس اگست تک اقتدار میں رہنا چاہتا ہے اور معیشت بھی ٹھیک کرنا چاہتا ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے اسے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ہو گا جیسا کہ سابقہ عمران حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں طے کیا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد سے مہنگائی کا ایک سیلاب آئے گا جس پر عوامی رد عمل کو عمران خان اپنے لانگ مارچ کے دوران کیش کروانے کی کوشش کرے گا۔ ایسے میں فوج اگر واقعی مکمل طور پر نیوٹرل رہتی ہے تو عمران کا پلڑا بھاری ہو جائے گا چونکہ اسٹیبلشمنٹ کا فیض دھڑا کھل کر ان کی حمایت کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے عمران نے فوجی قیادت سے یہ مطالبہ کردیا ہے کہ وہ اب اپنے نیوٹرل ہونے کے موقف پر قائم رہیں اور نیوٹرل ہو کر دکھائیں۔ چنانچہ شہباز حکومت کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے جس میں اس کے ایک طرف کھائی ہے اور دوسری جانب کنواں۔
چنانچہ اتحادی حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ ڈیل کرنے، جون میں وفاقی بجٹ پیش کرنے اور اسکے بعد انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کے مطالبات پر عمل کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف کا موقف ہے کہ حکومت کو اگست 2023 تک اپنی ائینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حکومتی بیک ڈور بات چیت کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اگر الیکشن قبل از وقت ہوئے تو معاشی محاذ پر مختصر مدت کے لیے مشکل فیصلے کرنا انہیں سیاسی طور پر بہت مہنگا پڑے گا۔
منحرف اراکین اسمبلی اور ہائی پروفائل مقدمات کی کارروائی میں مداخلت کے بارے میں حالیہ عدالتی فیصلوں کو پہلے ہی موجودہ حکمرانوں کے لیے اس پیغام سے تعبیر کیا گیس ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو 15 ماہ تک طول نہیں دے سکتے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے حکمران اتحاد کو درپیش مسائل پر کہا ہے کہ اب تک تمام اتحادی جماعتوں نے 15 ماہ کی مدت کی تکمیل پر اتفاق کیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف راضی ہو جائے تو ملکی معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے لیکن پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہمیں قبول نہیں، اگر حکومت کو ہر جانب سے تعاون حاصل ہو تو ہم ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں لیکن اگر ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں تو ہم اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام کے پاس جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایک موثر منتظم کی حیثیت سے شہرت کے حامل وزیر اعظم شہباز شریف اب تک خاص طور پر اہم فیصلہ سازی میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، یہ گماں ہوتا ہے کہ ان کا کردار ان کے بڑے بھائی نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں بالخصوص پی پی پی اور جے یو آئی ف کے درمیان ایک مفاہمت کار تک محدود ہو گیا ہے۔ وزارت عظمی کا چارج سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف پہلے 2 ہفتوں کے دوران جس جوش کے ساتھ متحرک نظر آئے تھے اب وہ بھاپ بنتا نظر آرہا ہے، ان کی حکومت خود کو آج جس مشکل پوزیشن میں دیکھ رہی ہے اس پر بات چیت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ مسائل کے اس دلدل نے حکمران اتحاد کے معمار، پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو ایک بار پھر نئی حکمت عملی کے ساتھ تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہان تک پہنچنے پر مجبور کر دیا ہے، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت حسین اور بلوچ قیادت سے ملاقات کے بعد انہوں نے لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کی اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں عمران کی جانب سے 25 مارچ کو لانگ مارچ کے اعلان نے حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومتی اتحاد کا خیال ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دیگر معاملات طے پا جائیں تو وہ پی ٹی آئی کے مارچ کو سنبھال سکتے ہیں، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ’اجازت‘ ملنے کی صورت میں عمران خان کو گرفتار کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے، ان کے خیال میں سابق وزیراعظم ایک دن بھی جیل میں گزارلیں تو سیاست کو بھول جائیں گے۔
دوسری جانب نئے الیکشن پر مسلم لیگ ن میں دو گروپس ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے نواز کیمپ نے پہلے ہی عمران خان کے مطالبے کی توثیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اتحاد کے لیے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی اس پر اپنے والد کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف، حکومت کو الوداع کہنے کو تیار ہیں لیکن معاشی بوجھ پاکستانی عوام پر نہیں ڈالیں گے کیونکہ عمران خان کی غلطیوں کا بوجھ اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں، بہتر ہے کہ عوام میں جا کر نیا مینڈیٹ حاصل کیا جائے‘۔ پی پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت آئندہ ہفتے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آخری ‘بیک ڈور رابطے’ کے بعد حکومت میں رہنے یا نئے انتخابات کرانے کے بارے میں فیصلہ کرے گی، اگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو حکومت فوری طور پر انتخابی اور احتسابی اصلاحات کرے گی اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دے گی۔ لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پا گئے تو پھر حکومت اگلے برس اگست تک اقتدار میں رہے گی۔
