شہباز حکومت کا پی ٹی آئی سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر تحریک انصاف سے بات چیت کے دروازے بند کرتے ہوئے فی الحال کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ 27 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون، جنرل یحییٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان۔‘اس ویڈیو پر اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل کے بعد اب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی طرف سے مختلف بیانات دیے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف عمرانڈو رہنما اس بیانیے سے اظہار برات کرتی رہے ہیں وہیں دوسری جانب کور کمیٹی کی جانب سے اس ویڈیو کا بھرپور دفاع کیا جا رہا ہے۔تنقید اور ردعمل سامنے آنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں بالخصوص بیرسٹر گوہر نے اس پوسٹ سے عمران خان کو لاتعلق دکھانے کی کوشش کی۔
تاہم ذرائع کے مطابق ریاستی سطح پر اس پوسٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا اور اسے ریاست کے خلاف سوچی سمجھی منصوبہ بندی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت ایک ڈاکیومنٹری تیار کی گئی اور اسے عمران خان کے اکاؤنٹ سے اپلوڈ کیا گیا۔اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیکا ایکٹ تحت کارروائی بھی شروع کر دی ہے اور ان سے تفتیش کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت بھی مانگ لی ہے۔
اس سے قبل حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ معیشت کی بہتری اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تحریک انصاف سے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن تحریک انصاف کی جانب سے صرف بااختیار لوگوں سے مذاکرات کی بات کی جا رہی تھی۔ تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف سے فی الحال مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’سیاست میں مفاہمت اور مذاکرات ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں لیکن مذاکرات کا ایک اصول ہوتا ہے۔ جو فرد بھی ریاست کے خلاف کھڑا ہوگا اس کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ سانحہ نو مئی ریاست کے خلاف اٹھنا تھا۔ جی ایچ کیو، جناح ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر کوئی معافی نہیں دے سکتا۔ فارمیشن کمانڈرز میٹنگ میں جس موقف کا اظہار کیا گیا وہ ہر پاکستانی کا موقف ہے۔‘ریاست پر حملہ آور ہونے والوں اور ریاست کے خلاف کھڑا ہونے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘
اس بارے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایوانوں میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی دستیاب قیادت اس معاملے پر الجھن کا شکار ہے۔’اس موضوع کی حساسیت کے پیش نظر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت عمران خان کی لی گئی پوزیشن پر چلنے سے یا تو قاصر ہے یا پھر گریزاں ہے۔‘’ایک طرف وہ یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ یہ پوسٹ بیرون ملک کارکنوں کا شاخسانہ ہے اور دوسری طرف زین قریشی یہ کہہ کر اس کی حقیقت پر مہر ثبت کر رہے ہیں کہ عمران خان کے علم میں لائے بغیر کچھ پوسٹ نہیں کیا جاتا۔‘تاہم اگر اس معاملے کو اگر بہتر طریقے سے ہینڈل نہ کیا گیا تو یہ عدم استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔’پی ٹی آئی کو اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرنا ہو گا ورنہ اب یہ بات حکومت کے ہاتھ لگ گئی ہے اور وہ اس کو استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے خلاف دباؤ بڑھائے گی۔‘
مبصرین کے مطابق یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عمران خان نے اپنے کسی بیان میں مشرقی پاکستان یا 1971 کا ذکر کیا ہو۔’اس بات کے مرکزی خیال پر وہ ابھی بھی کھڑے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اس کی مکمل طور پر تردید نہیں کی۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت ہر روز موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں کوئی نہ کوئی نئی بات کر دیتی یے تاہم مقتدرہ کو حمودالرحمان کمیشن اور مجیب الرحمان والی بات پر بہت غصہ ہے۔ اور ان کے اور عمران خان کے درمیان اب اور زیادہ کشیدگی ہے۔‘’یہی وجہ ہے کہ وہ اس ویڈیو کو ہٹا بھی نہیں رہے کیونکہ وہ مقتدرہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اب آپ ہمیں نہیں جھکا سکتے۔ ’یہ ویڈیو مقتدرہ پر کاری ضرب لگانے کے ایک بہت سوچے سمجھے بیانیے کا منصوبہ ہے۔‘
