شیخ رشید اور چوہدری برادران کا نام بھی رنگ روڈ سکینڈل میں

معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں دو سینئر بیوروکریٹس کی گرفتاری کے باوجود وفاقی وزراء زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو ابھی کلین چٹ نہیں دی گئی بلکہ ان کے ساتھ شیخ رشید احمد اور گجرات کے چودھری برادران کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے. یہ انکشاف سینئر صحافی اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔ انہوں نے 13 جولائی کو محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو دی جانے والی ایک بریفنگ کی روداد بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس بریفنگ کے دوران وزی راعظم کو اپنے کانوں اور آنکھوں پریقین نہیں آیا‘ وہ رکے اور زور دے کر کہا ’’آپ دوبارہ بتایے گا‘‘ اینٹی کرپشن پنجاب کے ڈی جی نے اپنی بات دہرا دی‘۔ وزیراعظم نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگا لی اور لمبے لمبے سانس لینے لگے‘۔ کمرے میں ’’پن ڈراپ‘‘ خاموشی چھا گئی۔ تمام لوگ وزیراعظم کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
ڈی جی اینٹی کرپشن کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے رنگ روڈ راولپنڈی کی تحقیقاتی رپورٹ بارے وزیراعظم رپورٹ کو بریفنگ کر رہے تھے۔ رپورٹ کا پہلا حصہ کمشنر راولپنڈی اور رنگ روڈ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کیپٹن محمود اور لینڈ ریکوزیشن کلکٹر وسیم تابش کے بارے میں تھا‘ وزیراعظم کو بتایاگیا کہ کمشنر محمود نے پانچ انٹرچینج سیاسی دبائو اور ہائوسنگ اسکیموں کے مالکان کے فائدے کے لیے بنائے۔ ٹھلیاں کا انٹرچینج کیپیٹل اسمارٹ سٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے مورت میں شفٹ کردیا گیا۔ایک انٹرچینج ائیرپورٹ سے ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ایم ٹو سے جنگل میں نکال دیا گیا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کیپٹن محمود کے بھائی کرنل مسعود رنگ روڈ پر واقع مکہ سٹی ہائوسنگ اسکیم کے کنسلٹنٹ ہیں۔ یہ اسکیم بلوچستان کے شہر لورا لائی کے ایک شہری فرید نے بنائی۔ اس نے 80 کروڑ روپے کی زمین خرید کر کرنل مسعود کو اپنا کنسلٹنٹ بنا لیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن کے مطابق ہم نے فرید سے پوچھا تمہارے پاس 80 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟
اس نے جواب دیا میں نے لورا لائی میں اپنا پلاٹ بیچا تھا۔ تاہم لورا لائی کیا پورے بلوچستان میں اتنی مہنگی زمین نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس لورا لائی کے پلاٹ کی خرید یو فروخت کے کاغذات تھے۔ لہٰذا بادی النظر میں فرید نامی شخص کرنل مسعود اور کیپٹن محمود کا فرنٹ مین ہے۔
جاوید چودھری کے مطابق وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وسیم تابش کے ذمے رنگ روڈ کی لینڈ ریکوزیشن تھی۔ اس نے اجازت کے بغیر اڑھائی ارب روپے کی زمین خرید لی اور پھر 21 مارچ 2021 کو اپنی بہو کے نام ٹاپ سٹی میں بارہ پلاٹس خرید لیے۔ تابش کی بہو ہائوس وائف ہے اور اس کا کوئی سورس آف انکم نہیں۔ وسیم تابش نے سوال جواب کے دوران دعویٰ کیا میں نے 40 لاکھ روپے میں فی پلاٹ خریدا تھا۔ جب ٹاپ سٹی سے تصدیق کرائی گئی تو پتا چلا کہ ایک پلاٹ کی کم سے کم مالیت پونے دو کروڑ روپے ہے اور مجموعی رقم 20 کروڑ بنتی ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے پوچھا ’’آپ نے کتنے ایریا کی تحقیقات کیں۔ جواب۔میں بتایا گیا کہ ہم نے رنگ روڈ سے تین تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجود زمینوں کا ریکارڈ چیک کیا۔ جب ذلفی بخاری کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ انکے ۔بینہ فرنٹ میں سجاد حسین شاہ نام کے ایک شخص نے 2020 میں رنگ روڈ کے ساتھ چار ہزار کنال زمین خریدی۔ پھر یہاں ا لآصف ڈویلپرز کے نام سے اسکیم بنالی اور سرکاری منظوری اور کاغذات کے بغیر پلاٹس بیچنا شروع کر دیے۔ جب محکمہ اینٹی کرپشن نے اسے بلا کر ’’سورس آف انکم‘‘ پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ میں یو اے ای میں سونے کا کاروبار کرتا ہوں۔ وہاں سے دو ارب 55 کروڑ روپے پاکستان لے کر آیا اور اس رقم سے یہ زمین خریدی۔ لیکن جب اینٹی کرپشن نے اپنا ایک افسر دوبئی بھجوایا تو پتا چلا کہ سجاد حسین شاہ کی کمپنی ایک کمرے کے فلیٹ پر مشتمل ہے اور اس کو بھی تالا لگا ہوا ہے۔ عمران خان کو بتایا گیا کہ یہ شخص ذلفی بخاری سے مسلسل رابطے میں رہتا تھا لیکن ہم یہ تحقیقات نہیں کرپائے کہ کیا وہ زلفی بخاری کا فرنٹ مین ہے یا نہیں۔ اس پر عمران نے کہا کہ ’’آپ نے تحقیقات کیوں نہیں کیں؟‘‘۔ وزیراعظم کو جواب میں بتایا گیا کہ مھکمہ اینٹی کرپشن کے پاس اکائونٹس چیک کرنے اور سیاستدانوں کے خلاف تحقیقات کا اختیار نہیں‘۔ یہ صرف نیب کر سکتا ہے۔
اسکے بعد وزیراعظم کو بتایا گیا کہ رنگ روڈ پر ایک اور مشکوک شخص نے 2020 میں تین ہزار کنال زمین خریدی۔ ہم نے اس کا انٹرویو کیا تو محسوس ہوا اس کا تعلق گجرات کی چوہدری فیملی کی ایک طاقتور شخصیت کے ساتھ ہے۔ وزیراعظم کو نوا سٹی کے بارے میں بتایا گیا کہ جنید چوہدری نے ایک ہزار 50 کنال جگہ خرید کر نوا سٹی کی ابتدائی منظوری لی۔ یہ اس لیول پر پلاٹ نہیں بیچ سکتا تھا لیکن اس نے فائلیں فلوٹ کر دیں۔ اس کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ ہم نے 8 ہزار فائلیں بیچی ہیں جب کہ مارکیٹ میں 20 سے 30 ہزار فائلیں ہیں۔ ہم نے تحقیق کی تو پتا چلا اس نے پانچ لاکھ روپے کنال زمین خریدی جسے وہ ایک کروڑ روپے فی کنال کے حساب سے فروخت کر رہا تھا۔ عمران خان کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا نوا سٹی کے ساتھ وفاقی وزیر غلام سرور خان اور ان کے بیٹے منصور حیات کا کوئی تعلق ہے۔ جواب میں ڈی جی کی جانب سے بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی منصور حیات ماضی میں جنید چوہدری اور ان کے رشتے داروں کا بزنس پارٹنر تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ منصور حیات اور غلام سرور خان کا جنید سے رابطہ بھی تھا اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے این او سی اور ہائوسنگ اسکیم کی منظوری میں بھی سرکاری اثرورسوخ استعمال ہوا۔
جاوید چودھری کے مطابق وزیراعظم کی بریفنگ میں رنگ روڈ پر وزیرداخلہ شیخ رشید کی زمین کے بارے میں بھی سوالات پوچھے گے۔ انہیں بتایا گیا کہ رنگ روڈ کے ساتھ شیخ رشید کی ساڑھے گیارہ سو کنال زمین ہے اور وہ یہاں 1985 سے مسلسل زمین خرید رہے ہیں۔ لیکن اینٹی کرپشن کی تحقیقات کے دوران یہ حیران کن بات سامنے آئی کہ رنگ روڈ پر دی لائف ریذیڈینشیا نامی ہائوسنگ اسکیم کے لیے تحسین اعوان نام کے ایک شخص نے شیخ رشید سے 139 کنال جگہ خریدی۔ یہ سودا لیگل ہے لیکن اس نے دو سوال پیدا کر دیے۔ پہلا یہ کہ سودا 45 لاکھ روپے کنال میں کیسے ہوا جبکہ سوسائٹی کے دائیں بائیں زمین کا ریٹ پانچ لاکھ روپے کنال ہے اور وہاں 45 لاکھ روپے ریٹ ہی نہیں۔ دوسرا سوال یہ کہ تحسین اعوان نامی شخص دی لائف ریذیڈینشیا کا نہ تو ڈائریکٹر ہے اور نہ ہی اس میں پارٹنر ہے لہٰذا اس نے سوسائٹی کے لیے زمین کیوں خریدی؟ جب عمراننخی جانب سے پوچھا گیا کہ تحسین اعوان کون ہے؟ تو اینٹی کرپشن والوں نے بتایا کہ وہ حال ہی میں لانچ ہونے والی نئی ائیر لائین الویر ائیرویز (Alvir Airway) کا سی ای او ہے۔ جب پوچھا گیا کہ اسے ائیر لائین کا لائسنس کب جاری ہوا تو بتایا گیا کہ الویر کو جولائی2021 میں ٹورازم لائسنس جاری ہوا ہے۔ اس پر وزیراعظم رکے اور زور دے کر کہا کہ دوبارہ بتائیے گا۔ جب انہیں دوبارہ بتایا گیا تو وزیراعظم نے پوچھا کہ آپ نے مذید تحقیقات کیوں نہیں کیں؟ انہیں پھر سے بتایا گیا کہ یہ تحقیقات اینٹی کرپشن کے مینڈیٹ سے باہر ہیں اور صرف نیب کر سکتا ہے۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اینٹی کرپشن نے 22 مئی 2021 کو انکوائری شروع کی تھی۔ چھ ارکان کی جے آئی ٹی بنائی گئی جس نے 21 ہزار صفحات کا مطالعہ کیا، 100 حکومتی اور پرائیویٹ شہریوں سے انکوائری کی، پنجاب حکومت کے پانچ ڈیپارٹمنٹس سے مدد لی اور وفاقی اور صوبائی دفتروں سے ڈیٹا جمع کیا جس کے بعد رپورٹ بنائی۔
جاوید چودھری کے مطابق راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا اصل پی سی ون 51 کلومیٹر پر محیط تھا جس کا بجٹ 6 ارب 24 کروڑ روپے تھا لیکن دوسرے پی سی ون میں سنگ جانی کو شامل کر کے رنگ روڈ کو 63 کلو میٹر سے زائد کر دیا گیا اور اسکی مالیت 16 ارب تین کروڑ روپے کر دی گئی۔ یوں اس منصوبے کی لاگت 10 ارب روپے بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ منصوبے کے لیے زمین کی خریداری بھی سرکاری اجازت کے بغیر ہوئی جس کے لیے سرکاری خزانے سے دو ارب 20 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے بریفنگ کے آخر میں وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ آپ اس معاملے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔ سرکاری ملازمین کے خلاف اینٹی کرپشن کو مقدمات چلانے دیں جب کہ ا لآصف ڈویلپر کے مالک سجاد حسین شاہ، مکہ سٹی کے کنسلٹنٹ اور کمشنر کیپٹن محمود کے بھائی کرنل مسعود، الویر ائیرویز کے سی ای او تحسین اعوان، نوا سٹی کے مالک جنید چوہدری، نوا سٹی کی فائلیں بیچنے والے تمام پراپرٹی ایجنٹس اور اسمارٹ سٹی کے مالکان کا کیس نیب کے حوالے کر دیا جائے اور ان ہائوسنگ سوسائٹیز پر پابندی لگا کر اور مالکان کی جائیدادیں بیچ کر عوام کو ان کا پیسہ واپس کرایا جائے۔ جاوید چودھری کے مطابق اس مشورے کے بعد اجلاس تو ختم ہو گیا لیکن وزیراعظم دیر تک لمبی لمبی سانسیں بھرتے رہے۔
