شیخ رشید کا 20 مئی سے 31 مئی تک 30 ٹرینیں چلانے کا اعلان

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے عید تک ریل کو بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 مئی سے 31 مئی تک 30 ٹرینیں چلا رہے ہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا وزیراعظم نے 20 مئی سے 30 ٹرینیں چلانے کی اجازت دی ہے اور اگر حالات بہتر ہوئے تو یکم جون کو مزید ٹرینیں چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرینوں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے اور جس ڈویژن میں خلاف ورزی ہوئی وہاں کے عہدیدار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔عوام سے تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسافروں کے علاوہ کسی اور کو اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اس لیے مسافروں کو لینے اور چھوڑنے نہیں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ بغیر بکنگ اور ٹکٹ کے کوئی شخص اسٹیشن نہیں آسکتا، کراچی، لاہور، ملتان، پشاور اورکوئٹہ میں ہماری پولیس کی نفری 7 ہزار ہے اور ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری پولیس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مسافروں کے علاوہ کوئی اور اسٹیشن میں داخل نہ ہوں۔شیخ رشید نے کہا کہ میں لوگوں سے کہوں گا کہ ہمارے لئے دعا بھی کریں اور بڑی مشکل سے غریب کی سواری کی اجازت مل گئی ہے اور ہم نے 20 مئی سے 31 مئی تک نئے اوقات کار بھی بتائے ہیں تاکہ مسافر ایک گھنٹہ پہلے آکر بیٹھ جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکپریس کے چار نئے ریکس بنائے ہیں، یہ نئی ریل کل کوئٹہ سے چلے گی۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ میں جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو سلام پیش کرتا ہوں وہیں ریلوے کے عہدیداروں اور افسروں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ ریلوے کے مزدوروں اور افسروں نے کوئی چھٹی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ کل میں پشاور جا کر انتظامات دیکھوں گا اور پرسوں لاہور اور ملتان کے لیے گرین لائن کو شروع کریں گے تاکہ ایس او پیز لازمی قرار دی جائیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی صوبے سے ہماری لڑائی نہیں ہے اور اسٹیشنوں کےباہر پولیس کی تعیناتی کے لیے ان سے کہیں گے ورنہ ہم اپنی پولیس کو بھی تعینات کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سواریوں کا حساب رکھا ہے اور اسی کے تحت اجازت دے رہے ہیں، اگر کسی ڈویژنل سپریننڈنٹ میں ایس اوپی کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
شیخ رشید نے کہا کہ ایس او پی پر صحیح طرح عمل کرنے کے لیے کل ریہرسل کررہے ہیں تاکہ مکمل تیاری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر کورونا وائرس سے پیدا شدہ حالات میں بہتری آئی تو یکم جون سے مزید ٹرینیں شروع کرنے کا فیصلہ کریں گے، 20 مئی سے 15 اپ اور ڈاؤن ٹرینوں کو 31 تاریخ تک چلایا جارہا ہے۔نقصانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ماہانہ سوا 5 ارب روپے کا نقصان ہوا لیکن میں حفیظ شیخ، اسد عمر اور جنرل افضل کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مزدوروں اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں ہماری مدد کی۔
