وزیرستان ویڈیو اسکینڈل: ویڈیو بنانے والا مرکزی ملزم گرفتار

شمالی وزیرستان پولیس نے غیرت کے نام پر قتل کی گئی 2 لڑکیوں کے ویڈیو اسکینڈل کیس میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزم نے موبائل میں ویڈیو ریکارڈ کی تھی جس کے نتیجے میں دونوں لڑکیوں کو قتل کردیا گیا۔
شمالی وزیرستان پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی شناخت عمر ایاز کے نام سے ہوئی جو تحصیل رزمک کا رہائشی ہے اور اسے چھاپہ مار کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی پولیس نے دو لڑکیوں کے قتل کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کیا تھا۔پولیس افسر نے بتایا تھا کہ کہ گرفتار افراد میں سے ایک ویڈیو میں دکھائی دینے والی پہلی لڑکی کا باپ ہے اور دوسرا ایک اور لڑکی کا بھائی ہے۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ ’مخبری پر پولیس نے رزمک کے دور دراز گاؤں میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے خلاف علیحدہ ایف آئی آر درج کی جائے گی‘۔اس سلسلے میں ایک عہدیدار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو لڑکیوں کے قتل کے مقدمے میں اب تک 4 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے سے صرف ایک ملزم فرار ہے جسے گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں‘۔
خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے اضلاع جنوبی و شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں میں نوجوان شخص کے ساتھ موبائل ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 2 لڑکیوں کو مبینہ طور پر گھر کے فرد نے غیرت کے نام پر قتل کردیا۔شمالی وزیرستان میں رزمک پولیس اسٹیشن، جس کی حدود میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں جمعہ 15 مئی کو ریاست کی مدعیت میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ(ایف آئی آر) درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 14 مئی کو خیرپختونخوا میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی گاؤں شام پلین گڑیوم میں دوپہر 2 بجے کے قریب پیش آیا۔اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق شام پلین گڑیوم میں چچا زاد بھائی کی جانب سے 16 اور 18 برس کی 2 لڑکیوں کے غیرت کے نام پر قتل کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کا نام اور پتہ معلوم نہیں۔اس میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل کی وجہ ایک ویڈیو کو مانا جارہا ہے جو ڈان ڈاٹ کام کو بھی فراہم کی گئی ہے، جس میں ایک نوجوان کو باہر ویران علاقے میں 3 لڑکیوں کے ساتھ اپنی ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا گیا۔
وزیرستان کے سینئر پولیس افسر نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ 52 سیکنڈ پر مشتمل موبائل ویڈیو کلپ میں نظر آنے والی 3 میں سے 2 لڑکیوں کو قتل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس ویڈیو میں نظر آنے والے شخص اور تیسری لڑکی کی معلومات جمع کررہی ہے۔پولیس عہدیدار کے مطابق یہ ویڈیو تقریباً ایک برس قبل بنائی گئی تھی اور ممکنہ طور پر چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔انہوں نے تحصیلدار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تیسری لڑکی اور لڑکا زندہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button