ترقی کے نام پر عوام سے گوادر کون چھینا رہا ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کو انٹرنیشنل سٹی اور اکنامک حب بنانے کے منصوبوں کو مقامی آبادی اپنے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے یہ دھائی دے رہی ہے کہ دراصل نام نہاد ترقی کے نام پر گوادر ان سے چھینا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ گوادر کی ترقی کے نام پر اس کو صرف ایک خار دار باڑ لگائی جا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عملی طور پر گوادر نیں نہ تو کوئی ترقی ہو رہی ہے اور نہ ہی عوام کی فلاح کا کوئی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ نہ گوادر میں بجلی ہے، نہ گیس اور نہ ہی پانی، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، اور مقامی آبادی کے پاس کوئی روزگار نہیں ہے۔ لمقامی آبادی کا کہنا ہے کہ گوادر کی ترقی کے نام پر جو منصوبے بنائے جا رہے ہیں وہ دراصل پنجاب، سندھ اور خیر پختونخوا کی ترقی کے لیے ہیں، ہمارے لیے بس جھوٹے وعدے ہیں۔
گوادر شہر میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی حفاظت اور سیکیورٹی کے نکتہ نظر سے شہر کو تقسیم کردیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہاں باڑ لگانے کا کام شروع کیا گیا تھا جسے مقامی افراد کے اعتراضات کے بعد بند کردیا گیا ہے لیکن گوادر کی مقامی آبادی قیدی بن چکی یے۔ مقامی افراد شکوہ کناں ہیں کہ ترقی کے نام پر ان کی زمین ان سے چھین لی گئی ہے اور ماہی گیروں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گوادرمیں نئی تعمیر ہونے والی بندرگاہ تو ایک ریڈ زون کا منظر پیش کرتی ہے جہاں کوئی اجازت نامے کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا البتہ پرانی بندرگاہ تک رسائی کی اجازت ہے۔ گوادر شہر میں مقیم ماہی گیر اور فیکٹریوں کے مالکان اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ جلد یا بدیر انھیں بھی جگہ چھوڑنی ہی پڑے گی۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گوادر شہر میں اب بھی پانی، بجلی اور گیس کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
گوادر میں آج دنیا کی گہری ترین بندرگاہوں میں سے ایک پاکستان چین بندرگاہ موجود ہے۔ وہاں موجود خوبصورت گوادر کرکٹ سیٹڈیم اور ساحل ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علاقہ بندرگاہ کے علاوہ مستقبل میں سیاحت کے لیے بھی انتہائی پرکشش ہے۔ 2002 میں فوجی آمر پرویز مشرف نے یہاں کے لوگوں کو معاشی ترقی کی نوید سنائی تھی۔ تب سے اب تک دو دہائیوں کے دوران گوادر کے نقشے میں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ گوادر شہر میں داخل ہوں تو کئی تعمیری منصوبے دکھائی دیتے ہیں، یہاں کا پوش علاقہ نیو ٹاؤن ہے اور اس کے ساتھ ہی بندرگاہ سے چند سو میٹر دور اولڈ ٹاؤن ماہی گیروں کی قدیم بستی ہے، دوسرے لفظوں میں یہاں کے باسیوں کا مرکز یہی ہے لیکن نیو ٹاؤن کے ہوٹل سے نکل کر خوبصورت میرین ڈرائیو سے پورٹ روڈ کی جانب جاتے ہوئے اطراف میں بنی خستہ حال دکانیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گندگی سے اٹی چھوٹی بڑی گلیاں گوادر کا دوسرا چہرہ ہیں۔ شاہی بازار ہو یا جنت مارکیٹ وہاں بجلی کی سہولت سے محروم چھوٹی چھوٹی اندھیرے میں ڈوبی دکانیں چلانے والے شکوہ کناں ہیں کہ ایران سے آنے والی بجلی انہیں صرف چند گھنٹے ہی ملتی ہے۔ چین کی معاونت سے بننے والے ایکسپریس وے کی تعمیر سے جن لوگوں کے گھر متاثر ہوئے انھیں ابھی تک معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔ نکاسی آب کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں، شہر میں روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ مقامی شہری آئے روز بے روزگاری کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بندرگاہ پر نوکریاں دی جائیں۔ ماہی گیری سے وابستہ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ان کو لیبر کا درجہ دیا جائے۔
گوادر میں نیو ٹاؤن کے رہائشی بتاتے ہیں کہ یہاں ہفتے میں ایک بار جبکہ اولڈ سٹی میں 15 دن بعد آدھے گھنٹے کے لیے سوڈ ڈیم سے پانی گھروں میں لگے پائپس میں آتا ہے۔ اگر لوگ گھروں میں بورنگ کر بھی لیں تو نیچے سے سمندر کا کھارا پانی ہی آتا ہے جسے نہ پی سکتے ہیں نہ نہا دھو سکتے ہیں۔ گوادر شہر سے لے کر پشکان اور پھر جیوانی پر پاک ایران سرحد تک جاتے ہوئے راستے میں کچے پکے چھوٹے بڑے گھروں کے ساتھ اومانی دور میں بنائے گھر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں لا تعداد ہاؤسنگ سکیمیں ہیں لیکن نصف سے زیادہ کو اب تک گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی یعنی جی ڈی اے کا این او سی نہیں مل سکا۔یہاں سرکاری ہسپتال کی عمارت کو اب ازسر نو تعمیر کیا جا رہا ہے اور پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال میں بھی حکام کے بقول 300 بستروں کی سہولت ہے لیکن اب بھی لوگوں کو آٹھ گھنٹے دور کراچی جانا پڑتا ہے چاہے وہ بچے کی ولادت ہو یا کوئی دوسری بیماری۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ہسپتال کی وجہ سے کچھ بہتری تو آئی ہے لیکن آبادی کے لحاظ سے یہاں ماہر ڈاکٹرز یعنی سپیشلسٹ کی بہت کمی ہے۔ شہر کی 80 ہزار کی آبادی کے لیے فقط ایک دو ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔
دوسری جانب گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شاہ زیب کاکڑ کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کی شکایات بجا ہیں۔ انھوں نے کہا 17 سال بعد جب گوادر کے لیے دوسرا ماسٹر پلان منظور ہوا تو اس میں اولڈ سٹی کے لیے کچھ منصوبہ بندی نہیں دی گئی تھی تاہم جی ڈی اے نے اب اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک پلان بنا کر حکومت کو دیا ہے جس پر عملدرآمد ہو گا۔ شاہ زیب کاکڑ کے بقول ایکسپریس وے اور گوادر پورٹ چینی حکومت سی پیک منصوبے کے تحت بنا رہی ہے اس کی بھاری مشینری سے ماہی گیروں کے گھروں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے ازالے کے لیے ہم نے حکام سے بات کی ہے۔
گوادر شہر کے انتظامی امور کے سربراہ ڈی سی گوادر کبیر زرغون کہتے ہیں کہ پہلے تو گوادر میں تربت سے ٹینکرز کے ذریعے پانی آتا تھا لیکن اب آبادی کو ڈیم کے بننے کے بعد گھروں تک پائپ لائن کے ذریعے پانی مل رہا ہے۔ بجلی نیشنل گریڈ سے منسلک نہیں، ایران سے آتی ہے اور آئندہ دو برسوں میں پاور پلانٹ کا منصوبہ ہے جبکہ گیس ایل پی جی سلینڈر کی صورت میں ملتی ہے۔ جی ڈی اے حکام پرامید ہیں کہ جلد ہی شہر کے تمام علاقے میں پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی اور اس کے لیے انکاڑہ ڈیم اور شادی کون ڈیم سے شہر کو سپلائی ملے گی۔ اس منصوبے کے تین فیز ہیں جن میں سے دوسرا بھی 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کے کھارے پانی کو کارآمد بنانے کے لیے فائیو ایم جی ڈی منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔
گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر کاشانی کا کہنا ہے گوادر پورٹ پر روزگار کے مواقع کم ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا مکمل فعال نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر بندرگاہ اس وقت فنکشنل تو ہو چکی ہے لیکن میرا ہدف ہے کہ ایک ملین ٹن کارگو ہو اور ابھی ہم اس سے پیچھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی سال کے 50 ویسلز ہیں، میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم 200 سے 300 ویسلز ہوں جس سے ہم کہہ سکیں کہ یہ پورٹ مکمل فعال ہے۔