عدالت جو بھی فیصلہ دے پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا

گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر لاہور ہائی کورٹ جو بھی فیصلہ دے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ پرویز الٰہی کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ ہر صورت لینا ہو گا۔ ایسی صورت میں ان کا  وزارت اعلٰی پر برقرار رہنا کافہ مشکل ہوگا چونکہ بظاہر وہ 186 اراکین اسمبلی کی حمایت نہیں رکھتے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کیا تھا۔

آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق پرویزالٰہی کی جانب سے خود کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر لاہور ہائی کورٹ دو طرح کے فیصلے دے سکتی ہے۔ پہلی صورت میں عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ گورنر نے وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے مناسب وقت نہیں دیا تھا لہٰذا وہ ڈی نوٹیفائی نہیں ہوئے، لیکن انہیں بطور وزیر اعلی اعتماد کا ووٹ لازمی حاصل کرنا ہو گا۔ دوسری صورت میں عدالت یہ فیصلہ بھی دے سکتی ہے کہ گورنر کی جانب سے وزیراعلٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا عمل آئینی ہے کیونکہ پرویز الٰہی اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ناکام ہو چکے تھے، اس صورت میں بھی عدالت یہی فیصلہ دیگی کے اب نئے وزارت اعلی کا الیکشن ہوگا اور جس کے پاس اکثریت ہوگی وہ وزیر اعلی بن جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے گورنر پنجاب نے پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ "وزیر اعلی نے تین دن گزر جانے کے بعد بھی اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کیا جس کے بعد میں پراعتماد ہوں کہ وہ صوبائی اسمبلی پنجاب کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اسی بنا پر انہیں فوری طور پر وزارتِ اعلیٰ سے برطرف کیا جاتا ہے”۔ گورنر پنجاب اپنے آرڈر میں وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کو ان کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے دوبارہ انہیں ہی وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا ہے۔

چیف سیکرٹری ہنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پرویز الٰہی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی صوبائی کابینہ کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اسی آرڈر میں پرویز الٰہی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں تاوقتیکہ ان کی جگہ ایوان ایک نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کر لے۔ اپنے آرڈر میں گورنر نے لکھا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو 19 دسمبر کے ایک حکمنامے کے ذریعے کہا گیا تھا کہ وہ صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں لیکن انہوں نے تین دن گزر جانے کے بعد بھی یہ اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کیا ہے جس کے بعد میں پراعتماد ہوں کہ یہ صوبائی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں اور اسی بنا پر وزارتِ اعلٰی سے ان کو فوری طور پر برطرف کیا جاتا ہے۔ دوسرے پیراگراف میں لکھا گیا کہ اسی بنا پر ان کی صوبائی کابینہ بھی تحلیل کر دی گئی ہے۔ تاہم، تیسرے پیراگراف میں پرویز الٰہی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب تک عہدے پر کام جاری رکھیں۔

ایسے میں اب پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئینی بحران جنم لیتا نظر آ رہا ہے۔ اس سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر کی جانب سے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ دلوانے کیلئے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنی رولنگ میں سپیکر نے کہا کہ گورنر پنجاب کا حکم نامہ قابلِ عمل نہیں اس لیے مسترد کیا جاتا ہے۔ جواب میں گورنر پنجاب نے سپیکر کی رولنگ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘غیر آئینی اور غیر قانونی’ قرار دے دیا تھا۔ دونوں کے درمیان اختلاف کا مرکز اسمبلی کا اجلاس ہے۔ سپیکر سبطین خان کا کہنا ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی سے چل رہا تھا جب گورنر نے انھیں ’وزیراعلٰی کو اعتماد کے ووٹ کے لیے‘ اجلاس بلانے کا کہا۔وہ کہتے ہیں آئینی طور پر ایک چلتے ہوئے اجلاس کے دوران نیا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔

لیکن گورنر پنجاب نے ان کے اس جواز کو مسترد کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آئین کہیں بھی آرٹیکل 130 شق 7 کے اطلاق کو نہیں روکتا، اگر اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل بھی رہا ہو۔‘ قانونی ماہرین زیادہ تر اس پر گورنر پنجاب کے موقف کو درست مانتے ہیں۔ معروف وکیل اسد رحیم خان نے بتایا کہ ’اس معاملے پر گورنر پنجاب بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ وزیر اعلی کے پاس اکثریت نہیں اور وہ اسمبلی سیشن جاری رکھنے کی آڑ میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے کا حربہ استعمال کر رہے تھے۔

تاہم قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ عدالت میں نقطے پر بحث ہو سکتی ہے کہ گورنر پنجاب نے جن باتوں کو بنیاد بنا کر وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کو کہا کیا وہ آئین کے آرٹیکل 130 شق 7 کی تشریح پر پورا اترتی ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں اعتماد کا ووٹ نہ لے کر پرویز الہی نے گورنر کا یہ موقف ثابت کر دیا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کے اکثریتی اراکین کی حمایت کھو چکے ہیں۔

دوسری جانب پرویز الٰہی نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹی فائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا یے۔ پرویز الٰہی نے گورنر کی جانب سے خود کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ڈی نوٹی فائی کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر ائینی ہے۔

درخواست میں گورنر کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری اور چیف سیکریٹری فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسپیکر کو وزیر اعلیٰ کے اعتماد کے ووٹ کے لیے اجلاس بلانے کا کہا تھا، اسمبلی کا اجلاس پہلے سے چل رہا ہے، اس لیے اسپیکر نے نیا اجلاس نہیں بلایا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر کے اجلاس نہ بلانے پر وزیر اعلی اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیر آئینی ہے، سپیکر کے کسی اقدام پر وزیر اعلیٰ کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ عدالت گورنر کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے۔ تاہم آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ دے پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا، لیکن بظاہر وہ ایوان میں اکثریت کھو چکے ہیں لہٰذا ان کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا ممکن نظر نہیں آتا۔

Back to top button