علیم خان نے اسلام آباد میں سرکاری زمین پر کیسے قبضہ کیا؟

آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر نیب کی تحویل میں رہنے والے سینئیر صوبائی وزیر علیم خان ایک بار پھر اختیارات کے ناجائزاستعمال اور کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گئے۔ وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے پنجاب کے سینئیر وزیر کی طرف سے سرکاری اراضی پر تجاوزات قائم کرنے کے مصدقہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں کے کرپشن، بد عنوانی، ٹیکس چوری، اقرباء پروری سمیت مختلف سکینڈلز کے سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، کپتنان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار، قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے بعد اب علیم خان پر بھی سرکاری زمینوں پر قبضے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سی ڈی اے کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ پنجاب میں سینئر وزیر علیم خان نے اپنی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کو کری روڈ سے منسلک کرنے کے لیے سرکاری اراضی پر تجاوزات قائم کیں۔ 7ماہ کی تاخیرسے جمع کرائی گئی وفاقی ترقیاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاؤسنگ ڈیولپر نے دعوٰی کیا تھا کہ انہوں نے اس زمین کے لیے ایک سڑک تعمیر کی تھی جو اس مقصد کے لیے مختص کی گئی تھی تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ڈیولپر سی ڈی اے زمین اور پروجیکٹ کی اراضی کے درمیان خلا کے مالک نہیں تھے جبکہ سی ڈی اے کی طرف سے صرف کری کے لیے سامنے آنے والا تصوراتی منصوبہ منظور شدہ لے آؤٹ نہیں تھا’۔ سی ڈی اے نے علیم خان کو مئی 2018 میں سڑک تعمیر کرنے کی اجازت دینے کی اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘9 مئی 2018 کے سی ڈی اے بورڈ کے اس فیصلے نے ڈیولپر کو اجازت نامے این او سی کی شرائط کی ضروریات کو پورا کرنے کی اجازت دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علیم خان کی تعمیرات اور مرکزی سڑک کے درمیان کوئی رسائی سڑک نہیں تھی جو این او سی کے لیے ضروری ہے تاہم سی ڈی اے نے سڑک کو تعمیر کرنے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں وہ این او سی کے لیے اہل بن سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘اگر سی ڈی اے نے اپنی زمین تک رسائی کی اجازت نہ دی ہوتی اور تصوراتی منصوبے کو حقیقی سڑک کے طور اپناتے تو یہ شرط پوری نہیں ہوسکتی تھی اور نہ ہی انھیں این او سی جاری کیا جا سکتا تھا۔’
چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے پنجاب کے سینیر وزیرعلیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف زمینوں پر مبینہ قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ علیم خان کی سوسائٹی کے خلاف اس عدالت کے سامنے روز درخواستیں آ رہی ہیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں سی ڈی اے نے اپنی زمین کو ہتھیانے کا خود علیم خان کی سوسائٹی کو اختیار دے رکھا تھا ، سی ڈی اے اور چیف کمشنر جواب دیں کس قانون کے تحت یہ اختیار پرائیویٹ آدمی کو دیا گیا، چیف کمشنر اسلام آباد بتائیں کیسے ایک پرائیویٹ سوسائٹی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت دی گئی؟ چیف کمشنر اسلام آباد اپنا نمائندہ مقرر کریں جو اس عدالت میں پیش ہو کر جواب دے۔ واضح رہے کہ نومبر 2019 میں اس معاملے پر ہونے والی ابتدائی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے سے کہا تھا کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو حاصل شدہ اراضی کو استعمال کرنے کے لیے دی گئی اجازت کو جواز بنائے اور ‘اس عدالت کو مطمئن کرے کہ یہ ایسا کیس نہیں جسے تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت دیا جائے’۔
یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے دسمبر 2017 میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی درخواست خارج کردی تھی جس میں سی ڈی اے کو این او سی جاری کرنے کی ہدایت کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ سینئیر صوبائی وزیر علیم خان کو علیم خان کو 6 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو نے نیب آفس میں مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں پیشی کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔ عبدالعلیم خان پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز تھے اور بلدیات کے محکمے کا قلمدان بھی ان کے پاس تھا۔ علیم خان نے نیب کی جانب سے گرفتاری پر اپنے صوبائی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔۔ ابتدائی تفتیش مکمل ہونے کے بعد مارچ میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ 15 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے علیم خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10، 10 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
