علی گیلانی کے ساتھ ویڈیو میں موجود ایم این ایز سامنے آگئے

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما علی حیدر گیلانی کی سامنے آنے والی ویڈیو میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دو اراکین قومی اسمبلی جمیل احمد اور فہیم خان منظر عام پر آگئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ اسٹنگ آپریشن تھا یا غلطی سے ویڈیو بن گئی، فہیم خان اور جمیل احمد نے کہا کہ ہم نے کسی کے کہنے پر ویڈیو نہیں بنائی جب کہ اس معاملے پر پارٹی کا بیان جلد سب کے سامنے آجائے گا۔ اپوزیشن کی جانب سے پیسوں کی پیشکش یا پیسے لینے سے متعلق سوال پر جمیل احمد نے کہا کہ ‘انہوں نے لوگوں کو بہت ساری چیزوں کی پیشکش کی، جب کہ ہم نے پیسے لیے ہوتے تو کیا ابھی وزیر اعظم سے مل کر آتے؟۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دامن صاف ہے اور الیکشن کمیشن نے ہمیں طلب کیا تو ہم ضرور پیش ہوں گے۔ جمیل احمد نے کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف، اس کی اتحادی جماعتوں اور وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی فتح کا دن ہے، اپوزیشن کو بدترین شکست ہوئی ہے اور وہ اپنا بیانیہ بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آج انہیں 2018 میں 176 ووٹوں کے مقابلے میں 178 ووٹ ملے جس کا مطلب ہے کہ تمام اراکین کا عمران خان پر پورا اعتماد ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات سے ایک روز قبل 2 مارچ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اسلام آباد سے جنرل نشست پر امیدوار یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ اس ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے ہیں۔ تاہم ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت واضح نہیں ہوسکی تھی۔ ویڈیو میں علی حیدر گیلانی دوسرے شخص کو بیلٹ پیپر پر دو جگہ نشان لگانے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ نمبرز یاد رکھنے ہیں۔ یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد حکمراں جماعت تحریک انصاف کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کےلیے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ علی حیدر گیلانی نے اپنی ویڈیو سے متعلق کہا کہ اراکین قومی اسمبلی سے پیسوں کی کوئی بات نہیں کی اور ان سے کئی بار مل چکا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، میرا ضمیر مطمئن ہے، ووٹ مانگنا میرا حق ہے اور ایک بار نہیں سو بار ووٹ مانگوں گا، ہم ضمیر کا ووٹ مانگتے ہیں اور کبھی ووٹوں کی خرید و فروخت میں حصہ نہیں ڈالا۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی میرٹ پر تحقیقات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button