عمران خان دل سے اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں

https://youtu.be/fFfL2-xgCFg
ہمیشہ بولنے کے بعد تولنے والے وزیراعظم عمران خان نے ستر ہزار پاکستانیوں کے قتل کی وجہ بننے والے اسامہ بن لادن کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران شہید قرار دے کر اپنے لئے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی ہے۔ وزیر اعظم کے چند مشیران نے ان کے اس بلنڈر کو کور کرنے کے لیے وضاحتیں تو دی ہیں لیکن سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک طوفان برپا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نے ایک انٹرویو کے دوران یہ دعوی کر دیا تھا کہ پاکستان آرمی اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے القاعدہ اور طالبان کو ٹریننگ دی تھی۔ اس سے پہلے جب وہ اپوزیشن میں تھے اور نواز شریف وزیراعظم تھے تو عمران خان روزانہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں۔ تاہم ان کا یہ مطالبہ تب دم توڑ گیا جب طالبان نے 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے سینکڑوں معصوم بچوں کو ہلاک کر دیا جس کے ردعمل میں پاکستان آرمی نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور پھر عمران خان نے ہمیشہ کی طرح یوٹرن لیتے ہوئے طالبان کا ساتھ چھوڑ دیا اور فوجی آپریشن کی حمایت کردی۔
تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے فلور پر اسی اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا جس کے نظریاتی ساتھیوں کے خلاف جنگ میں ہزاروں فوجی جوان اور ہزاروں پاکستانی شہری شہید ہوچکے ہیں، ایک بلنڈر سے کم نہیں لیکن دراصل اس میں قصور عمران خان کا نہیں، ان کی سوچ کا ہے کیونکہ ان کے نزدیک اسامہ ایک شہید ہے۔ یاد رہے کہ چند برس قبل عمران خان نے بطور اپوزیشن رہنما انڈیا کے ایک ٹیلیویژن چینل، این ڈی ٹی وی، کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران اسامہ بن لادن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جس انداز میں اسے ہلاک کیا گیا اُس نے انھیں لوگوں کی نظر میں شہید بنا دیا ہے۔‘
اس انٹرویو کے کئی برسوں بعد 25 جون کو بطور وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اسامہ کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کچھ ایسا کہا جس سے اسامہ بن لادن پاکستان میں ٹرینڈ کرنے لگے ہیں اور ایک بحث چھڑ گئی۔ عمران دراصل یہ گنوا رہے تھے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر کب کب شرمندگی اٹھانی پڑی۔ اس دوران انہوں نے امریکی فوج کے ہاتھوں اسامہ کا مارا جانا بھی بطور شہادت گنوا دیا۔
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے ’شہید‘ کا لفظ استعمال کرنے کی دیر تھی کہ ان کا قومی اسمبلی کا وہ کلپ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی وائرل ہوگیا ہے۔عمران خان نے یہ بات اُن کی حکومت کی خارجہ پالیسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کی۔ ایک طرف جہاں انھوں نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کو ‘کامیاب ترین’ قرار دیا وہیں انھوں نے امریکہ کے ساتھ ان کی اور ماضی کی حکومتوں کے تعلقات پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ہم نے اُن کا ساتھ دیا۔ اس کی وجہ سے پاکستان کو جو ذلت اٹھانی پڑی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی ملک نے امریکہ کا اس جنگ میں ساتھ دیا ہو اور امریکہ نے اسی ملک کو بُرا بھلا کہا ہو۔ اگر وہ افغانستان میں کامیاب نہ ہوئے تو اس کا ذمہ دار بھی پاکستان کو بنایا گیا۔’وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ستر ہزار پاکستانی اس وقت تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جا چکے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستانیوں کو ذلت برداشت کرنا پڑی۔ تاہم وزیراعظم شاید یہ بھول گئے کہ یہ ستر ہزار پاکستانی اسامہ بن لادن کے نظریاتی ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے جس کو انہوں نے شہید قرار دے کر ان کے خاندانوں والوں کے زخموں پر نمک نہیں بلکہ مرچیں چھڑک دیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2011 میں امریکی افواج نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ بطور قوم دوسری شرمندگی کی بات پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے تھے۔ تاہم ایک مرتبہ پھر عمران خان شاید یہ بھول گئے کہ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کی قاتل تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت انہیں ڈرون حملوں میں ماری گئی جس وجہ سے اس کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بن لادن کے لیے ’شہید‘ کا لفظ استعمال کرنے کی دیر تھی کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین نے اس پر اپنی آرا کا اظہار کرنا شروع کیا۔ اور ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ انڈیا میں بھی دیکھنے کو ملا۔ پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ کے دو ٹرینڈ اسی حوالے سے چل رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ عمران خان کا قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہنا ان کی طرف سے پرتشدد انتہا پسندی کو راضی کرنے کی تاریخ کا تسلسل ہے۔
بلاول نے مزید کہا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہی اے پی ایس پر حملے میں ملوث افراد فرار ہوئے اور ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث افراد کو ریلیف ملا۔
سینیٹر شیری رحمان نے لکھا کہ ‘تاریخ میں لکھا جائے گا کے ایک شخص جس کی وجہ سے ملک کا امن اور نسلیں تباہ ہو گئیں، اس شخص کو وقت کے وزیراعظم نے قوم اور دنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کیا۔
انہوں نے لکھا کہ ‘یاد رکھنا اسامہ بن لادن عمران خان کا ہیرو ہو سکتا ہے لیکن اس ملک اور عوام کا نہیں۔ وہ پاکستان اور قوم کا مجرم تھا اور رہے گا۔
صحافی امبر رحیم شمسی نے عمران خان کے انڈین چینل کو دیے گئے انٹرویو کے کلپ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسامہ بن لادن کو براہ راست شہید نہ کہنے کے حوالے سے عمران خان ہمیشہ محتاط رہے ہیں۔ اس کلپ میں وہ کہتے ہیں کہ ‘معاشرے کا ایک طبقہ’ سوچتا ہے کہ اسامہ شہید ہیں۔ آج نیشنل اسمبلی میں انھوں نے اس فلٹر کی وضاحت کر دی۔‘
عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے بھی اس بات پر اپنی رائے کا اظہار یہ کہتے ہوئے کیا کہ ’آکسفورڈ سے فارغ التحصیل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ قرار دے دیا ہے۔‘
صحافی اسد علی طور نے لکھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے چیف ایگزیکیٹیو بھی ہیں اور اگر وہ کوئی بات اسمبلی کے فلور پر کہتے ہیں تو اسے پالیسی بیان سمجھا جاتا ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے شخص اسامہ بن لادن کو سرکاری سطح پر شہید قرار دے دیا ہے؟‘
انڈین صارف روہت جسوال کا کہنا تھا کہ ‘اگر عمران خان نے اسامہ بن لادن کے لیے ‘شہید’ کا لفظ استعمال کیا ہے تو لوگ اس پر حیران کیوں ہیں۔ انڈیا میں بھی ایسے سیاستدان ہیں جو اسامہ بن لادن کو ‘اسامہ جی’ کہتے ہیں۔ آپ میں سے کتنوں کو یہ بات یاد ہے۔ مذاق ایک طرف، اسامہ کو شہید کہنا ان افراد کی توہین ہے جنھوں نے نائن الیون کے واقعے میں اپنی جانیں گنوائیں۔’
عاطف ضیا نامی صارف نے پاکستان میں شدت پسندی کے خلاف جنگ کے نتاظر میں لکھا کہ ’ایک ایسا شخص جس نے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ہلاک کیا اسے ہمارے وزیر اعظم ‘شہید’ قرار دے رہے ہیں۔ یہ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت افسردگی ہوئی کہ پاکستانیوں کا قاتل شہید بن گیا ہے۔‘ صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ ’ستر ہزار پاکستانی مارے گئے مگر اسامہ بن لادن شہید ٹھہرے۔‘
تاہم کئی صارفین ایسے بھی ہیں جو عمران خان کے اس بیان کی حمایت کرتے نظر آئے۔
صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا جو مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کی سوچ کی ترجمانی ہے۔‘
انصار عباسی کی اس ٹویٹ پر ایم ایس گورایا نامی صارف نے لکھا کہ ’میں متفق ہوں، وہ شہید ہے کیونکہ بغیر مقدمہ چلائے، الزام ثابت کیے، صفائی کا موقع دیے بغیر انھیں جان سے مارا گیا، لہذا وہ شہید ہیں۔۔۔‘ نفیس احمد نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’لیڈر لیڈر ہی ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر ببانگ دھل کہا ہے کہ ہمارے لیے شرمندگی کا باعث تھا کہ امریکہ پاکستان میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن کو شہید کر دیا۔ آج تک نہ کسی میڈیا اور نہ کسی مسلم لیڈر میں عظیم مسلم مجاہد لیڈر اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کی جرآت نہیں۔‘
