عمران خان کو فوج سے کھلی جنگ کا فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف اپنے اپنے پلان بی کے ساتھ میدان میں اُتر چکی ہیں، ایک کے پاس مقبولیت نہیں تو دوسرے کے پاس قبولیت نہیں، ایک عوام کو اپنے دکھ کی داستان سنا رہی ہے تو دوسری مقتدرہ پر دباؤ بڑھانے کیلئے جارحانہ سیاست پر اُتر آئی ہے۔

دنیا نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف جس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتری ہے اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی، گزشتہ چند روز کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس سے اچانک مہم شروع کر دی گئی، چند روز قبل ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے ادارے ایس آئی ایف سی کے خلاف ایسے وقت میں مہم چلائی گئی جب دوست ملک متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کیلئے دس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا گیا۔اس کے چند ہی گھنٹوں بعد سانحہ مشرقی پاکستان کو زیر بحث لا کر پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف مہم شروع کر دی گئی، اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کے کچھ حلقوں میں اس مہم کو ایک بڑا بلنڈر قرار دیا جا رہا ہے مگر اس جارحانہ مہم کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ مقتدرہ پر دباؤ بڑھایا جائے، پاکستان تحریک انصاف کا خیال تھا کہ مقتدرہ انہیں کسی نہ کسی سٹیج پر انگیج ضرور کرے گی اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور رابطے ہوں گے مگر ان کا اندازہ غلط نکلا ۔ تحریک انصاف نے ماضی قریب میں مقتدرہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے کئی حربے آزمائے مگر ان میں سے ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا، مقتدرہ طے کر چکی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل حتیٰ کہ بات چیت بھی نہ ہوگی، مقتدرہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے عسکری قیادت کے براہ راست نام لے کر الزامات لگائے گئے، 9 مئی کے واقعات ہوئے، آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹرز کے باہر پاکستان کے خلاف احتجاج کیا گیا، آئی ایم ایف کو خط تک لکھ دیا گیا۔اب اگلے مرحلے میں ایس آئی ایف سی اور اس کے بعد سانحہ مشرقی پاکستان کو جواز بنا کر مہم شروع کی گئی، مگرمقتدرہ کی جانب سے اس معاملے پر فوری ردعمل دینے کی بجائے اسے ٹیسٹ میچ کے طور پر کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تحریک انصاف کی اس چال پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان فوج نے اپنی حالیہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ9مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے، قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور9مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا۔سیاسی محرکات پر مبنی ڈیجیٹل دہشت گردی کامقصد قومی اداروں میں اختلافات پیدا کرنا ہے ، قوم جھوٹ اور مکروہ عزائم سے باخبر ہے۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے سانحہ مشرقی پاکستان اور شیخ مجیب بارے جاری پراپیگنڈا مہم کے اثرات دوررس ہونگے اور نہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان بلکہ تحریک انصاف کو بھی اس بلینڈر کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ تاہم اب حالات کی سنگینی  کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف اس سوشل میڈیا مہم سے اظہار برات کرتی نظر آتی ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی اس سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کو بانی پی ٹی آئی یا ان کی پارٹی کی پالیسی قرار نہیں دے رہے۔ بیرسٹر گوہر کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ مقتدرہ کے خلاف مہم چلانے کے معاملے پر تحریک انصاف کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے، مگر تحریک انصاف پر ایسے افراد کی اجارہ داری ہے جو مفاہمت کی بجائے مزاحمت اور جارحانہ سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی تک تو پاکستان تحریک انصاف کو اس حکمت عملی کا فائدے کی بجائے صرف نقصان ہی ہوا ہے، پی ٹی آئی کا مزاحمتی گروپ یہ سمجھتا ہے کہ اگر مزاحتمی سیاست نہ کی گئی اور ملک میں سیاسی استحکام آگیا تو بانی پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کیلئے مشکلات بڑھتی چلی جائیں گی۔ اس لئے وہ حکومت اور مقتدرہ پر ہر صورت دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انتظامی اور قانونی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آ رہی، بانی تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کا ایک نیا کیس تیار ہو رہا ہے، جبکہ شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مقدمات میں بھی گرفتار ہو چکے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے قریبی ساتھیوں کی مستقبل قریب میں رہائی کا امکان نظر نہیں آ رہا،

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چھ سال بعد ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف کو اپنا صدر منتخب کر لیا اور 28 مئی کو یوم تکبیر کے موقع پر پارٹی کی ری لانچنگ کی گئی، اقامہ کیس میں نااہلی کے بعد میاں نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے اور کئی برس تک (ن) لیگ نے کٹھن سیاسی صورتحال کا سامنا کیا، حالات بدلے ، کیسز میں ریلیف ملا، حتیٰ کہ دوسری مرتبہ حکومت بھی مل گئی مگر مسلم لیگ (ن) کو مقبولیت اور بیانیے کے میدان میں بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مقتدرہ کی حمایت تو حاصل ہے مگر اسے بیانیہ نہ ہونے کی پریشانی بھی کھائے جا رہی ہے، ان کا سب سے بڑا سیاسی حریف جیل میں ہونے کے باوجود ان کے اعصاب پر سوار ہے، چھ سال بعد پارٹی سربراہی کی تبدیلی سے متعلق تقریب میں مسلم لیگ (ن) کوئی نئی سیاسی حکمت عملی سامنے نہ لا سکی، مسلم لیگ (ن) کی سیاسی بقا کیلئے اب بس ایک ہی راستہ ہے کہ موجودہ مشکل ترین معاشی صورتحال میں عوام کیلئے ریلیف پیدا کریں اور معاشی اصلاحات کر ڈالیں، مسلم لیگ (ن) کو بھی شاید اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ اب بیانیہ صرف عوام کو ریلیف دے کر ہی بنایا جا سکتا ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط پر بننے والے بجٹ میں ایسا کرنا آسان کام نہیں، (ن) لیگ کو مشکل معاشی فیصلے ایک ایسے وقت میں کرنے ہیں جب اس کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی بھی اس کے فیصلوں کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔

Back to top button