عمران خان کے آئیڈیل مہاتیر محمد کا اسٹیبلشمنٹ سے پنگا پڑ گیا

وزیراعظم عمران خان کے آئیڈیل حکمران اور ملائیشیا کے 95 سالہ قائمقام وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود اپنے اتحادی انور ابراہیم اور اسکی پشت پناہی کرنے والے شاہی خاندان کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ دی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی طرح اکثریت نہ رکھنے کے باوجود مہاتیر محمد بھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ تن تنہا اپنی حکومت چلائیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں سمیت کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ تاہم مہاتیر کے سابق اتحادی انور ابراہیم اور انکی پشت پناہی کرنے والے ملائیشیا کے بادشاہ انہیں ٹف ٹائم دے رہے ہیں جس کی وجہ سے سیاسی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔
حال ہی میں بطور وزیراعظم استعفی دینے والے دنیا کے معمر ترین سربراہ حکومت مہاتیر محمد اس وقت ملائیشیا کے عبوری وزیر اعظم ہیں جن کے اپنے سابق کلیدی اتحادی انور ابراہیم سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور اب دونوں ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ ملائشیا پر 22سال تک حکومت کرنے کے بعد 2003 میں ریٹائرڈ ہونے والے ڈاکٹر مہاتیر محمد نے 2018 میں اپنے سابق سیاسی حریف انور ابراہیم کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے دوبارہ حکومت قائم کی تھی۔ اتحاد قائم کرتے وقت یہ طے پایا تھا کہ آدھی مدت کے لئے ڈاکٹر مہاتیر محمد وزیراعظم بنیں گے جبکہ بقیہ نصف مدت کے لئے انور ابراہیم یہ عہدہ سنبھالیں گے۔
تاہم بعد ازاں مہاتیر بے ایمان ہو گئے اور طے شدہ انتخابی معاہدے کے برخلاف انور ابراہیم کو اقتدار سونپنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ملک میں فوری طور پر نئے انتخابات ہونے چاہئیں تاکہ وہ روایتی سیاسی حریف انور ابراہیم کے ساتھ اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد تن تنہا حکومت بنا کر پھر سے ملک کے وزیراعظم بن جائیں۔ دوسری طرف مسئلہ یہ بھی ہے کہ انور ابراہیم مہاتیر محمد کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
نتیجہ یہ کہ اس وقت ملائیشیا شدید سیاسی بحران کی زد میں ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے والے بزرگ سیاستدان ڈاکٹر مہاتیر محمد وزیراعظم اب غیراتحادی یا تنہا حکومت بنانے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم انہیں اتحادی جماعت، بادشاہ اوراراکین پارلیمنٹ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ ملائیشیا کے بادشاہ کو ماضی میں قانون سازی میں ویٹو کے حق سے محروم کرنے کے بعد سے ڈاکٹر مہاتیر محمد کے شاہی گھرانے سے بھی کشیدہ تعلقات ہیں۔
واضح رہے کہ مہاتیر نے 2003 میں ختم ہونے والے اپنے 22 سالہ دور میں شاہی خاندان کو قانونی استثنیٰ سے بھی محروم کردیا تھا۔ اب سیاسی بحران کے فوری خاتمے کے لیے ملائیشیا کی پارلیمان کے اسپیکر نے قائم مقام سربراہ مہاتیر محمد کی جانب سے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے آئندہ ہفتے ووٹنگ کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے جس سے سیاسی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔ قبل ازیں مہاتیر محمد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بادشاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد شاہ کو بھاری اکثریت کا حامل امیدوار ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اس کے بعد ایوان زیریں کے ووٹوں کے محتاج ہوں گے۔ مہاتیر نے کہا تھا کہ اگر اس عمل میں کسی بھی قسم کا تعطل آتا ہے تو فوری طور پر انتخابات کرا دئیے جائیں گے۔ تاہم اسپیکر محمد عارف محمد یوسف نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد صرف اور صرف بادشاہ کی اجازت کے بعد ہو سکتا ہے۔ سپیکر کا مؤقف سابق حکمران اتحاد کی قیادت کرنے والے مہاتیر کے حریف انور ابراہیم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اس موقف کی حمایت کرتا ہے کہ آئین کے تحت صرف بادشاہ کو وزیر اعظم کے تقرر کا اختیار ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بادشاہ کی جانب سے باضابطہ اعلان کا انتظار کیے بغیر انہوں نے مستعفی ہونے میں جلدی کی۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد کی جانب سے استعفی دینے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پورا کرنے کے لیے ممکنہ طورپر نئے انتخابات کروانا پڑیں گے۔ تاہم ان کی سابق اتحادی جماعت کے سربراہ انور ابراہیم اور ملائیشیا کے بادشاہ چاہتے ہیں کہ موجودہ پارلیمنٹ ہی انور ابراہیم کو نیا وزیراعظم منتخب کرلے۔ تاہم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی بھرپور کوشش ہے کہ ملک میں قبل ازوقت انتخابات کرائے جائیں اور وہ دو تہائی اکثریت لے کر تن تنہا حکومت قائم کریں اور پھر سے ملک کے وزیراعظم منتخب ہو جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ملائیشیا کی سیاست کیا کروٹ لیتی ہے۔ کیا انور ابراہیم آئندہ مدت کے لیے پارلیمنٹ سے وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے یا پھر بادشاہ کو مجبوراً نئے انتخابات کا اعلان کرنا پڑے گا اور ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنی خواہش کے عین مطابق دو تہائی اکثریت لے کر وزیراعظم بن پائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں جس قسم کی بھی سیاسی تبدیلی آئی، یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک بڑا سیاسی سبق ہوگا۔ اگر واقعی ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنے مشن میں کامیاب رہے اور نئے انتخابات کے ذریعے پھر وزیراعظم بن گئے تو ممکنہ طور پر عمران خان بھی اسمبلیاں توڑ کر فریش مینڈیٹ کے لیے عوام کے پاس جا سکتے ہیں اور اکثریت سے منتخب ہوکر اتحادی جماعتوں کے بغیر وزیر اعظم بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں عمران خان کو پتہ لگ جائے گا کہ اگر مہاتیر کی اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں سے محاذ آرائی کو ملائیشیا کے عوام نے پسند نہیں کیا تو شاید پاکستان میں بھی عمران خان کی مہم جوئی کامیاب نہ ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button