مہاتیر محمد کی جگہ محی الدین ملائیشیا کے نئے وزیر اعظم مقرر

مہاتیر محمد کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے ارمان خاک میں مل گئے۔ ملائیشیا کے بادشاہ نے ملک کے نامور سیاستدان محی الدین یاسین کو نیا وزیر اعظم تعینات کردیا ہے
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق محی الدین دراصل مہاتیر کی جماعت برساتو کے سربراہ ہیں اور ان کی جانب سے وزیر اعظم کا منصب سنبھالے جانے کے بعد یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن(یو ایم این او) دوبارہ اقتدار میں آ جائے گی جسے 2018 میں انتخابات کے بعد اقتدار سے بے دخل کردیا گیا تھا۔
برساتو نے رواں ہفتے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کردیا تھا جس کے ساتھ ہی اتحادی حکومت ختم ہو گئی تھی۔
مہاتیر محمد نے یو ایم این او کے ساتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا جس پر ملک کے سیاستدانوں نے ان کے اس فیصلے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے سینئر ترین سیاستدان کو شاہی حکمنامے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔
یاد رہے کہ مہاتیر نے یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن سے معاہدے سے اس لیے انکار کیا تھا کیونکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق سمیت متعدد رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں۔
محی الدین کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے 94سالہ مہاتیر کے سابق حکمران اتحاد کے سربراہ انور ابراہیم کے ساتھ معاملات طے پا گئے تھے اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی رضامندی ظاہر کیے جانے کے سبب وہ ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بننے کے قریب پہنچ گئے تھےلیکن ملائیشیا کے عوام کو اس شدید دھچکا لگا جب شاہی محل نے محی الدین کی بحیثیت وزیر اعظم تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد کا ماننا ہے کہ محی الدین کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور وہ اتوار کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلق اٹھائیں گے۔
شاہی محل سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ بادشاہ نے حکم جاری کیا ہے کہ یہ سب کے حق میں بہترین فیصلہ ہے اور اس سے ملک میں جاری سیاسی بحران کا خاتمہ ہو جائے گا۔72سالہ محی الدین ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور 2015 میں وزیر اعظم نجیب کو کرپشن پر تنقید کا نشانہ بنانے پر مجیب نے نائب وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔
محی الدین نے 2016 میں سیاسی جماعت برساتو کے قیام میں مہاتیر محمد کی مدد کی تھی جنہوں نے بعد میں انور کے ساتھ اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مہاتیر بعد میں اقتدار انور کے سپرد کر دیں گے۔آسٹریلیا کی تسمانیہ یونیورسٹی میں ایشیا انسٹیٹیوٹ کے سربراہ جیمز چن نے کہا کہ محی الدین کو وزیر اعظم بنائے جانے پر مجھے حیرت ہوئی، یہ ملائیشیا کے لیے بہت بُری خبر ہے، اس حکومت میں شامل ایک جماعت بنیادی اسلامی جماعت ہے جو ملک کو ایک اسلامی مملکت بنانا چاہتی ہے۔
یاد رہے کہ دو سال قبل ہونے والے انتخابات میں یونائیٹڈ مالے نیشنل آرگنائزیشن کو پہلی مرتبہ شکست ہوئی تھی جہاں یہ جماعت 1957 میں ملک کی آزادی کے بعد سے متقل اقتدار میں تھی۔ مہاتیر کے استعفے کے بعد اتحادی جماعتوں نے انور کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا تھا لیکن بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ہفتے کو دوبارہ مہاتیر کو وزیر اعظم بنانے نے پر اتفاق کر لیا تھا لیکن بادشاہ کے حکم کے بعد ان کا یہ منصوبہ خاک میں مل گیا۔
