ڈرگ کوئین پنکی نے عدالت میں بنی گالہ کی کہانی کیوں چھیڑی؟

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلانے والی انمول عرف پنکی کی گرفتاری نے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے مابین ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب حکومت اور ایجنسیاں پنکی کو ایک شاطر اور منظم منشیات فروش قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف نے پنکی کا یہ الزام آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ پولیس نے اس پر دباؤ ڈالا تاکہ وہ یہ اعترافی بیان دے کہ اس کا نیٹ ورک بنی گالہ تک منشیات سپلائی کرتا تھا۔ ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنکی نے بنی گالہ کی کہانی چھیڑ کر دراصل اپنے خلاف درج کیسز کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس کا اسے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا۔

کراچی کی ایک عدالت میں پنکی کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اورتحریک انصاف اور حکومت کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی عدالت میں پیشی کے دوران انمول عرف پنکی نے میڈیا اور عدالت کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ عدالت میں یہ بیان دے کہ وہ ماضی میں بنی گالہ میں بھی منشیات کی سپلائی کرتی رہی ہے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ پولیس اس سے اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے تاکہ ایک سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔عدالت میں دئیے گئے بیان میں پنکی نے کہا کہ اس کے خلاف بیس سے پچیس مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اسے کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کرو، ورنہ تمہاری فیملی کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

پولیس حکام کی جانب سے ایک شاطر عورت قرار دی جانے والی منشیات فروش پنکی نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر بنی گالہ کے ایک رہائشی کا نام لینے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔ ملزمہ کے مطابق گرفتاری کے پہلے روز ہی اسے پولیس وین میں بتایا گیا تھا کہ عدالت میں کیسے چلنا اور کیا کہنا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس گھر سے اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی وہ اس کی ملکیت ہی نہیں ہے۔ ملزمہ کے ان الزامات نے فوری طور پر سیاسی رنگ اختیار کر لیا۔ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اسکے پارٹی رہنماؤں نے پنکی پر دباؤ کو حکومت کی جانب سے چلائی گئی انتقامی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت ایک منشیات کیس کو بنیاد بنا کر عمران اور انکی جماعت کے خلاف ایک “گھناؤنا اور منظم بیانیہ” کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

پارٹی رہنماؤں کے مطابق اگر ایک ملزمہ عدالت میں کھڑے ہو کر یہ کہہ رہی ہے کہ اس سے زبردستی عمران خان کے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ ملک کے نظام انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سنگین سوال ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پنکی نے کراچی کی عدالت میں عمران خان کا نام نہیں لیا اور صرف بنی گالہ کا ذکر کیا تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے گینگسٹر طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور فوج داری کیسز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے فرضی کہانیاں بنوا رہی ہے تاکہ عمران خان اور ان کی جماعت کو بدنام کیا جا سکے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت اور پولیس حکام نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی عادی ہو چکی ہے اور اس کیس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومتی رکن اسمبلی کھیل داس کوہستانی سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک منظم جرائم کے کیس کو سیاسی شہادت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل حقائق سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجائے کہ منشیات فروش پنکی جیسے گھناؤنے کرداروں کی مذمت کی جائے، تحریک انصاف کی قیادت اس کا دفاع کر رہی ہے۔ ادھر پولیس حکام کا کہنا یے کہ انمول عرف پنکی ایک عام ملزمہ نہیں بلکہ 2014 سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک پھیلے ایک بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک کی رنگ لیڈر ہے۔ کراچی پولیس چیف کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے بھاری مقدار میں قیمتی منشیات، اسلحہ اور کروڑوں روپے مالیت کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد ہوئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پنکی عدالت میں سیاسی ڈراما رچا کر نہ صرف تفتیش کا رخ موڑنا چاہتی ہے بلکہ پی ٹی آئی کو پولیس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

کیس کی تفتیش میں شامل ایک افسر کے مطابق ملزمہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی شخصیات پر الزامات عائد کر چکی ہے اور اب وہ اسی حکمت عملی کے تحت “بنی گالہ” کا نام استعمال کر رہی ہے تاکہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ملزمہ کے خلاف اتنے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ وہ کسی صورت قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکے گی۔ عدالتی کارروائی کے بعد اس کیس نے تب مزید ڈرامائی رخ اختیار کیا جب سماعت کے بعد ملزمہ کو واپس لے جاتے ہوئے کمرہ عدالت کے باہر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ بعض افراد نے “شیم شیم” اور “مارو مارو” کے نعرے لگائے جبکہ پولیس نے بڑی مشکل سے ملزمہ کو حصار میں لے کر وہاں سے منتقل کیا۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی عمران خان اور بنی گالہ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے منشیات استعمال کرنے یا منشیات سے متعلق حلقوں سے روابط کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، اگرچہ ان الزامات کے حق میں کبھی کوئی عدالتی یا قانونی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اسی تناظر میں انمول پنکی کے حالیہ بیان کو دیکھا جا رہا ہے، جس نے ایک فوجداری کیس کو براہ راست قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

Back to top button