آئی ایم ایف کا پاکستان سے سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں دی جانے والی تمام چھوٹ اور استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر حکام کے درمیان ٹیکس وصولیوں، نئے محصولات اور بجٹ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر اصرار کیا جا رہا ہے جبکہ ایف بی آر اس ہدف میں کمی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 778 ارب روپے اضافی وصولی کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں تقریباً 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جن پر ایف بی آر حکام آئی ایم ایف کو بریفنگ دیں گے۔مزید برآں ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس ہدف کو جی ڈی پی کے 11.2 فیصد کے برابر رکھنے پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح 22.8 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم اس کے ساتھ تمام ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کے ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button