ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے : کویت

کویت نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں شمولیت سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے نہ کسی حملے میں حصہ لیا اور نہ ہی اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو اس مقصد کے لیے استعمال ہونے دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں کویت کی سفیر شیخہ الزین الصباح نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے اداریہ بورڈ کو ایک خط ارسال کیا، جس میں ان خبروں کی تردید کی گئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کویت نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔کویتی حکومت نے ان الزامات کو "مکمل طور پر بے بنیاد اور حقائق کے منافی” قرار دیا۔
کویتی سفیر نے اپنے خط میں کہاکہ نہ تو کویت نے اپنے لڑاکا طیارے ایران کے خلاف استعمال کیے اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی سمندری حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کےلیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔
کویتی سفیر نے زوردیا کہ کویت کی خارجہ پالیسی علاقائی استحکام، خودمختاری کے احترام اور تنازعات کے سفارتی حل پر مبنی ہے،اس لیے ایسی رپورٹس حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔
خیال رہے کہ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھاکہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کےبعد کویت اور بحرین نے بھی ایران میں بعض اہداف پر حملوں کےلیے اپنے لڑاکا طیارے استعمال کیے۔
ایران کا سعودی، یمن کشیدگی پر اظہار تشویش، مذاکرات پر زور
ایران کا مؤقف ہےکہ اس نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایاتھا، اور یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایرانی شہروں پر حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔
تاحال بحرین کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جب کہ کویت نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایران کےخلاف کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنا۔
