"کاکروچ جنتا پارٹی”بھارتی نوجوانوں کی مزاحمتی تحریک کیسے بنی؟

دنیا بھر میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریکیں تیزی سے ابھر رہی ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ان تحریکوں کا سب سے مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ یورپی تھنک ٹینک یورپی ڈیموکریسی حب کی رپورٹ کے مطابق 2025 عالمی سطح پر احتجاج کا سال رہا، جہاں 70 سے زائد ممالک میں مختلف نوعیت کی عوامی تحریکیں سامنے آئیں، جن میں سے کئی 2026 تک بھی جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق معاشی ناہمواری، نوجوانوں میں بے روزگاری، حکومتی احتساب کی کمی اور یوکرین و غزہ کی جنگ جیسے عوامل عالمی احتجاجی رجحان کو تقویت دینے کی بڑی وجوہات رہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی 52 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دنیا بھر کی پارلیمانوں میں اس عمر کے نمائندوں کا تناسب صرف 2.8 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق نمائندگی کے اسی فرق نے جین زی (Gen Z) کو سوشل میڈیا اور عوامی احتجاج کے ذریعے اپنی سیاسی آواز بلند کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں کئی ممالک میں حکومتوں کو پالیسیوں پر نظرثانی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی عالمی رجحان کے تناظر میں بھارت میں بھی نوجوانوں کی ایک منفرد احتجاجی تحریک "کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کی صورت میں سامنے آئی، جس نے سوشل میڈیا سے نکل کر ملک گیر عوامی مہم کی شکل اختیار کر لی۔ یہ تحریک 15 مئی 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب ایک متنازع بیان میں بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ” قرار دیا گیا۔ اس بیان نے شدید عوامی ردعمل پیدا کیا، تاہم نوجوانوں نے اس اصطلاح کو توہین کے بجائے اپنی احتجاجی شناخت میں تبدیل کر دیا اور "کاکروچ” کو مزاحمت اور یکجہتی کی علامت بنا لیا۔

یہ تحریک باضابطہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل اور عوامی مزاحمتی پلیٹ فارم ہے، جسے 16 مئی 2026 کو بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور سابق سیاسی میڈیا حکمت عملی ساز ابھیجیت دیپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہم لاکھوں نوجوانوں میں مقبول ہوگئی اور صرف 17 سے 20 مئی کے دوران سوشل میڈیا پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ نئے فالوورز حاصل کیے، جبکہ مجموعی رسائی 2 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹس کے مطابق متنازع بیان میں چیف جسٹس سوریا کانت نے بعض بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچوں کی طرح” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روزگار نہ ملنے پر وہ میڈیا یا سماجی کارکن بن کر دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ بعد ازاں وضاحتیں اور دیگر دلائل بھی سامنے آئے، تاہم نوجوانوں کے غصے میں کمی نہ آئی اور "کاکروچ” احتجاجی تحریک کی سب سے نمایاں علامت بن گیا۔

اس تحریک کو جلد ہی بھارت کی متعدد اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے "بی جے پی بمقابلہ سی جے پی” کا نعرہ دیا، جبکہ عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے اسے جمہوری دباؤ کی کامیاب مثال قرار دیا۔ ترنمول کانگریس کے رہنماؤں مہوا موئترا اور کرتی آزاد نے احتجاج میں عملی شرکت کی، جبکہ سینیئر رہنما کپل سبل نے مظاہرین کے لیے سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سماجی کارکنوں اور طلبہ تنظیموں نے بھی اس تحریک کی بھرپور حمایت کی۔ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال احتجاج کی علامت بن گئی، جبکہ انا ہزارے، یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت کئی معروف سماجی شخصیات نے نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اسے صرف احتجاج نہیں بلکہ تعلیمی، معاشی اور سیاسی اصلاحات کی تحریک قرار دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق "کاکروچ جنتا پارٹی” کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے ایک توہین آمیز لفظ کو مزاحمتی شناخت میں تبدیل کر دیا۔ ان کے نزدیک یہ تحریک اس بات کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان علامتی سیاست، طنز اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے مختصر وقت میں وسیع عوامی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جین زی کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں مستقبل کی سیاست اور حکمرانی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

Back to top button