امریکہ ایران پر جاری حملوں سے پیچھے کیوں ہٹنے لگا؟

عرب اتحادیوں کی تشویش اور دفاعی وسائل کی کمی نے واشنگٹن کو ایران کے خلاف نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کئی روز سے جاری جنگی کشیدگی کے درمیان امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فی الحال نئے حملوں سے گریز کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں دفاعی وسائل پر بڑھتے دباؤ، پیٹریاٹ میزائلوں کے محدود ہوتے ذخائر اور خلیجی عرب اتحادیوں کے بڑھتے خدشات کے باعث بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عمان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات نے بھی اس امکان کو تقویت دی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے خطے میں ایک نئے سفارتی مرحلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ کرتے ہوئے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ، جن میں نیویارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس شامل ہیں، کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو فی الحال ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ فضائی کارروائیوں کا سلسلہ رک گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں۔ امریکی دفاعی حکام نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں سمیت فضائی دفاعی نظام کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جبکہ اگر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ فوجی قیادت نے خبردار کیا کہ جنگ کے پھیلنے کی صورت میں صرف پیٹریاٹ میزائل ہی نہیں بلکہ دیگر فضائی دفاعی نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہوں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ امریکی فوج ہر حکم پر عمل درآمد کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، تاہم ممکنہ نتائج اور خطے میں دفاعی توازن کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کشیدگی میں مزید اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی حمایت کی۔
ادھر خلیجی عرب اتحادیوں کی جانب سے بھی خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ان میڈیا رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ ممکنہ حد تک سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی عمان کی ثالثی بھی ایک بار پھر سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمانی وفد تہران پہنچ کر آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری آمدورفت کے نئے انتظامات پر ایرانی حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور ہفتے کے اختتام تک کسی ابتدائی معاہدے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کا یہ عارضی فیصلہ کسی مستقل پالیسی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ زمینی حقائق، دفاعی وسائل کی صورتحال اور سفارتی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی گئی ایک حکمت عملی ہے۔ آنے والے دنوں میں عمان کی ثالثی، ایران کے ردعمل اور خطے کی مجموعی صورتحال اس بات کا تعین کرے گی کہ کشیدگی میں واقعی کمی آتی ہے یا یہ وقفہ ایک نئی اور بڑی فوجی حکمت عملی سے پہلے کی خاموشی ثابت ہوتا ہے۔
