کیا واقعی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی استعفیٰ دینے والے ہیں؟

خیبرپختونخوا کی سیاست ایک بار پھر ہلچل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آرہا ہے کہ وہ شدید سیاسی دباؤ اور ذہنی تناؤ کا شکار ہیں اور دو مرتبہ اپنا استعفیٰ بھی لکھ چکے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقے اور وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر رہے ہیں۔

تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کے مستعفی ہونے کا معاملہ اس وقت مزیدشدت اختیار کر گیا جب وزیراعظم کے مشیر اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عملی طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی جماعت اور عوام دونوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں حکومتی معاملات سست روی کا شکار ہیں جبکہ عوام حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ ذہنی دباؤ اور سیاسی تناؤ کے باعث استعفیٰ دینے پر غور کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبے رکے ہوئے ہیں، سرکاری ادارے غیر فعال ہیں اور ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبائی وسائل عوامی فلاح کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا مہمات پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں صوبے کو نئی قیادت کی ضرورت ہے اور اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانا ہی بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی ڈاکٹر شفقت ایاز نے ان تمام دعوؤں کو سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی نہ تو استعفیٰ دینے جا رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ وزیراعلیٰ یقیناً مختلف نوعیت کے سیاسی اور انتظامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اسے ڈپریشن قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق ایک وزیراعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کو گورننس، پارٹی معاملات، کارکنوں کی توقعات، اڈیالہ جیل سے متعلق سیاسی صورتحال اور سوشل میڈیا تنقید جیسے کئی چیلنجز درپیش ہیں، مگر وہ بدستور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ مشکل وقت سے ضرور گزر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ آخری وقت تک سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، کارکنوں کی بے چینی اور سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث قیادت پر دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی واقعی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بیانات زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے اور عوامی تاثر بنانے کی کوشش کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

Back to top button