باکو کنکشن: پنکی کیس مزید پراسرار ہو گیا

پاکستان کے ہائی پروفائل “پنکی کیس” نے ایک اور سنسنی خیز موڑ اختیار کر لیا ہے۔ منشیات، مبینہ سیاسی روابط، اربوں کے نیٹ ورک اور خفیہ لین دین کے بعد اب انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر کی بیرونِ ملک ٹریول ہسٹری نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے متعدد دوروں، مبینہ کروڑوں کی ڈیل اور متعدد بار گرفتاری کے بعد رہائی کے انکشافات نے اس کیس کو صرف ایک کرائم اسٹوری نہیں بلکہ طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کی پراسرار کہانی بنا دیا ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاقات ہیں یا اس کے پیچھے ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کام کر رہا تھا؟
منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کیس میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے اور اب اس کے بیرونِ ملک روابط سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آنے لگی ہیں۔ ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی اور اس کے سابق شوہر رانا اکرم کی ٹریول ہسٹری نے تحقیقاتی اداروں کو نئے سوالات کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق انمول عرف پنکی پہلی مرتبہ 25 دسمبر 2018ء کو کراچی سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو روانہ ہوئی تھی اور تقریباً تین ماہ بعد یکم اپریل 2019ء کو پاکستان واپس آئی۔ یہ طویل قیام اب تحقیقاتی اداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
دوسری جانب اس کے سابق شوہر رانا اکرم کے بھی باکو کے متعدد دوروں کا انکشاف ہوا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق وہ پہلی بار 12 اکتوبر 2025ء کو باکو گیا اور ایک ہفتے بعد واپس آیا، جبکہ دوسری مرتبہ 27 دسمبر 2025ء کو دوبارہ آذربائیجان روانہ ہوا اور 6 جنوری 2026ء کو لاہور واپس پہنچا۔تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رانا اکرم کا کردار اس پورے نیٹ ورک میں انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسی نے پہلی مرتبہ انمول عرف پنکی اور اس کی ساتھی کرن کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں مبینہ طور پر دونوں خواتین کو چھوڑ دیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس رہائی کے بدلے میں دو گاڑیاں اور تقریباً پانچ کروڑ روپے کی مبینہ ڈیل ہوئی۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ کیس محض منشیات فروشی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں اثر و رسوخ، مالی لین دین اور ممکنہ کرپشن کے پہلو بھی شامل ہو جائیں گے۔اس سے قبل بھی پنکی کیس میں کئی حیران کن انکشافات سامنے آ چکے ہیں، جن میں سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، ہائی پروفائل گاہکوں اور بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک کے دعوے شامل ہیں۔ تفتیشی حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا باکو کے یہ دورے کسی بڑے مالیاتی یا منشیات نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق آذربائیجان حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفری و تجارتی سرگرمیوں کے باعث بعض غیر قانونی نیٹ ورکس کے لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہے، یہی وجہ ہے کہ پنکی کیس میں باکو کا نام سامنے آنے کے بعد تحقیقات مزید حساس ہو گئی ہیں۔تحقیقاتی ادارے اب ٹریول ریکارڈ، مالیاتی لین دین، رابطوں اور بیرونِ ملک ممکنہ اثاثوں کے درمیان تعلقات کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں اور انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔
