امریکہ نے "پروجیکٹ فریڈم” روکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ "پروجیکٹ فریڈم” پاکستان کی درخواست پر روکا گیا تھا تاکہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کا موقع دیا جا سکے۔

خبر ایجنسی کے مطابق مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے امریکا کو باور کرایا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں "پروجیکٹ فریڈم” کو روک دیا جائے تو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، اسی لیے مذاکرات اور سیاسی حل کو موقع دینے کیلئے متعلقہ آپریشن عارضی طور پر بند کیا گیا۔ مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم تمام صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان ممکنہ رابطوں میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے مختلف عسکری آپشنز زیر غور ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ امریکی قیادت بارہا ایران کو سخت نتائج سے خبردار بھی کر چکی ہے۔

Back to top button