امن مذاکرات کیلئے 5امریکی شرائط کے جواب میں7ایرانی مطالبات

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں واشنگٹن نے ممکنہ امن عمل کیلئے تہران پر پانچ سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ان شرائط کو تسلیم کیے بغیر کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی،جبکہ دوسری جانب ایران نے 5 امریکی شرائط کے جواب میں 7 مطالبات پیش کردئیے ہیں۔ جس کے بعد خطے میں سفارتی اور سیاسی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایرانی سرزمین پر ہونے والی بمباری کے نقصانات کے ازالے کیلئے مالی معاوضہ طلب کیا گیا تھا۔ واشنگٹن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے ہرجانے کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں۔ امریکی شرائط میں ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے اور جوہری سرگرمیوں کو صرف ایک تنصیب تک محدود کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں میں صرف 25 فیصد تک نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر کشیدگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی داخلی امور کمیٹی کے سربراہ محمد صالح جوکار نے واضح کیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی مقرر کردہ شرائط امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں “سرخ لکیر” کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نہ امریکا پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسے یقین ہے۔ محمد صالح جوکار کے مطابق امریکا نے فوجی دباؤ، پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ایران میں نظام کی تبدیلی اور ملک کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ تمام منصوبے ناکام ثابت ہوئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، جو پاکستان میں متوقع تھے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کیلئے کھولنے کے بدلے ایران پر عائد بحری پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کی تھی، لیکن تہران نے اپنی بنیادی شرائط پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔

ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط میں آبنائے ہرمز پر ایرانی نگرانی، تمام محاذوں پر جنگ بندی، “محورِ مزاحمت” کے خلاف کارروائیاں روکنے، خطے سے امریکی افواج کے انخلا، تمام پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔محمد صالح جوکار نے زور دیا کہ ایران امریکا کو اب بھی ایک “ناقابلِ اعتماد دشمن” سمجھتا ہے اور تہران اپنی عسکری اور معاشی طاقت کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو “سنگین نتائج” سامنے آسکتے ہیں۔ادھر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مؤقف قریب لانے کیلئے خاموش مگر متحرک سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ عالمی برادری بھی خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن و استحکام پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button