شہباز حکومت کے 25 ماہ میں 15 ہزار ارب روپے کے ریکارڈ توڑ قرضے

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے ابتدائی 25 ماہ کے دوران وفاقی قرضوں میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے مارچ 2026 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 15 ہزار 714 ارب روپے بڑھ گئے، جس کے بعد مجموعی وفاقی قرضہ 80 ہزار 524 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران حکومت کے مقامی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صرف داخلی قرضے 14 ہزار 891 ارب روپے بڑھ گئے، جبکہ بیرونی قرضوں میں بھی 824 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے، قرضوں کی واپسی، سود کی بلند ادائیگیوں اور جاری اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرض لینے کا رجحان برقرار ہے۔ دوسری جانب بلند شرح سود اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے بھی حکومتی قرضوں کے حجم میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ کے مطابق قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث حکومت کو قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اخراجات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر محصولات میں خاطرخواہ اضافہ اور برآمدات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے مہینوں میں حکومت کا قرضوں پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔
