محسن نقوی کی ایرانی صدر سے طویل ملاقات میں کیاطے پایا؟

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی روابط مزید مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی، جو تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال، اقتصادی تعاون اور امن کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان، افغانستان اور عراق کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کیلئے استعمال ہونے نہیں دی، جو نہایت ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف سازشوں کا مقصد خطے میں بدامنی پھیلانا اور دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کرنا تھا، تاہم پڑوسی ممالک کے تعاون نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔

صدر پزشکیان نے جنگ بندی اور علاقائی امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن و استحکام کے قیام کیلئے مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی ہی خطے کو بیرونی مداخلت سے محفوظ بنا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمان ممالک اگر باہمی تعاون کو فروغ دیں تو خطے میں دیرپا امن، ترقی اور استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں پاک ایران اقتصادی تعلقات، سرحدی تجارت، سائنسی و ثقافتی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی جانب سے اقتصادی تعاون کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات دونوں برادر ممالک کو مزید قریب لانے کا سبب بن رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت پر قطری قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور متوازن خارجہ پالیسی کے فروغ کیلئے فعال کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بڑھتا ہوا اعتماد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔

Back to top button