ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ، دوبارہ حملے بارے مشاورت شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آخری وارننگ دے دی۔ صدرٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے، اگر ایران نے فوری پیش رفت نہ کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، انہیں فوری طور پر آگے بڑھنا ہوگا، ورنہ ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت انتہائی اہم ہے اور ایران کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جلد معاہدہ کرے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے معاہدے میں تاخیر کی تو اسے بہت بُرے حالات سے گزرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق معاہدہ ہی ایران کے لیے بہترین راستہ ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے اہم ارکان کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی کی، جس میں ایران کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی اور ممکنہ عسکری اقدامات پر غور کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس اہم اجلاس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، سی آئی اے ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ سکیورٹی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ فوجی ردعمل کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اگر ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو پینٹاگون مختلف عسکری منصوبے پہلے ہی تیار کرچکا ہے۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر محدود حملوں کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ کی یہ ملاقات ورجینیا میں واقع اپنے گالف کلب میں دورۂ چین سے واپسی کے بعد ہوئی، جبکہ رواں ہفتے قومی سلامتی ٹیم کا ایک اور اجلاس بھی متوقع ہے۔

اس سے قبل بھی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک مبہم مگر دھمکی آمیز پیغام جاری کیا تھا، جس کے کیپشن میں "طوفان سے پہلے کی خاموشی” تحریر تھا۔ اس تصویر میں ٹرمپ کو ایک امریکی فوجی افسر کے ہمراہ بحری جہاز میں دیکھا گیا جبکہ پس منظر میں ایرانی پرچم والی ایک فوجی کشتی بھی موجود تھی، جسے مبصرین نے ایران کیلئے واضح پیغام قرار دیا۔

Back to top button