شہباز شریف اب بھی امریکا ایران مذاکرات کے اگلے دور کیلئے پُرامید

ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور خطے میں مستقل امن کے قیام کے حوالے سے پُرامید ہیں، پاکستان اس مقصد کیلئے سفارتی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز” کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی تاریخ کے روشن ترین لمحات میں سے ایک ہے اور دنیا آج پاکستان کو ایک ذمہ دار، ایماندار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیادت کو پاکستان پر اعتماد حاصل ہے اور یہ 24 کروڑ پاکستانیوں کیلئے فخر کا لمحہ ہے۔ ان کے مطابق امن کا قیام آسان عمل نہیں بلکہ اس کیلئے صبر، حکمت اور مشکل حالات میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے مزیدکہا کہ پاکستان اب بھی پوری کوشش کر رہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہو سکے تاکہ خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے کہا کہ باقی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ اہم سفارتی کردار خوش قسمتی سے ملا ہے اور اس میں سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان مؤثر ہم آہنگی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک سمیت مختلف عالمی قوتیں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔

وزیراعظم نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 565 میل طویل سرحد موجود ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب پاکستانی بندرگاہیں عالمی توانائی رسد کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں خلل پاکستان سمیت دنیا کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔انہوں نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفارتی کوششوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا، جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیوں اور مسلسل رابطوں کو بھی قابل تعریف قرار دیا۔

گزشتہ برس پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو جنوبی ایشیا ایک بڑی تباہی کا شکار ہوسکتا تھا۔دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بی ایل اے اور دیگر شدت پسند گروہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے کیونکہ ملک کے بے گناہ شہری اور سکیورٹی اہلکار مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے بارہا کابل حکومت کو امن اور تعاون کے پیغامات دیئے، تاہم دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنا ناگزیر ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے اور یہ جنگ صرف اپنے ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے لڑ رہا ہے۔

Back to top button