امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ کے خدشات شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق اہم ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور وہ ممکنہ امریکی کارروائی میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے۔ ادھر سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ایران میں توانائی، انفرااسٹرکچر اور دیگر اہم تنصیبات سمیت متعدد اہداف کا انتخاب کر لیا ہے۔امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ اس ہفتے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران کی صورتحال پر مزید مشاورت کریں گے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے اسلحہ اور گولہ بارود لے کر درجنوں امریکی کارگو طیارے تل ابیب پہنچے ہیں۔ اسرائیلی چینل 13 نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ترسیل ایران کے خلاف ممکنہ جنگی تیاریوں کا حصہ ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جبکہ اس سے ایک روز قبل وہ قومی سلامتی کے اہم عہدیداروں سے بھی ایران کے معاملے پر مشاورت کر چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ممکنہ جنگ کے اثرات خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Back to top button