لاہور سے پنڈی صرف سوا 2 گھنٹے: پاکستان کی پہلی فاسٹ ٹرین کب چلے گی؟

پاکستان میں ریلوے سفر ہمیشہ سے عوام کی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے، مگر لاہور سے راولپنڈی تک کا سفر مسافروں کے لیے اکثر ایک طویل آزمائش بن جاتا ہے۔ گھنٹوں کی تاخیر، سنگل ٹریک کی رکاوٹیں اور پرانا نظام اس روٹ کو سست ترین سفروں میں شامل رکھتے ہیں۔ اب پہلی بار حکومت نے اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے جو نہ صرف سفر کا انداز بدلے گا بلکہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک نئی تاریخ بھی رقم کر سکتا ہے۔
پنجاب حکومت اور پاکستان ریلویز کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے تحت لاہور اور راولپنڈی کے درمیان جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد مسافر صرف دو سے اڑھائی گھنٹے میں لاہور سے راولپنڈی پہنچ سکیں گے، جبکہ موجودہ سفر عموماً چھ سے سات گھنٹے تک محیط ہوتا ہے۔
اس منصوبے کی سب سے اہم بنیاد لاہور سے راولپنڈی تک ریلوے ٹریک کو سنگل سے ڈبل کرنا ہے۔ موجودہ نظام میں ایک ہی ٹریک پر دونوں سمتوں کی ٹرینیں چلتی ہیں، جس کے باعث مختلف اسٹیشنز پر ایک ٹرین کو دوسری کے گزرنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جدید ترین انجن ہونے کے باوجود ٹرینیں اپنی اصل رفتار حاصل نہیں کر پاتیں۔
پاکستان ریلویز کے ترجمان جہانزیب گوندل کے مطابق نئے منصوبے میں نہ صرف ٹریک کو ڈبل کیا جائے گا بلکہ اس کی مکمل اپ گریڈیشن بھی کی جائے گی تاکہ ٹرینیں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زائد رفتار سے سفر کر سکیں۔ خاص طور پر کالو وال جیسے خطرناک موڑ، جہاں اس وقت ٹرینوں کو رفتار کم کرنا پڑتی ہے، انہیں جدید انجینئرنگ کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔اس منصوبے کے لیے خصوصی جدید ٹرینیں بھی درآمد کی جائیں گی جو تیز رفتار سفر کے تقاضوں کے مطابق تیار ہوں گی۔ ساتھ ہی جدید کمپیوٹرائزڈ سگنلنگ سسٹم، حفاظتی باڑ، اوورہیڈ پل اور انڈر پاسز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ ٹرین بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ انداز میں اپنی رفتار برقرار رکھ سکے۔
اگرچہ یہ منصوبہ عوام کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے، مگر اس کے ساتھ بڑے چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ تک علاقہ نسبتاً ہموار ہے، لیکن جہلم اور پوٹھوہار کے پہاڑی علاقوں میں نئے پل، موڑوں کی درستگی اور ٹریک کی تعمیر ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کے ریلوے انفراسٹرکچر کا اب تک کا سب سے اہم اپ گریڈیشن منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 436 ارب روپے لاگت آئے گی، جبکہ اس کی تکمیل میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت زمین کے حصول اور مالی معاونت فراہم کرے گی جبکہ پاکستان ریلویز تکنیکی امور اور آپریشنز سنبھالے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ڈبل ٹریک منصوبوں کی کامیاب مثال پہلے بھی موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے گزشتہ دور حکومت میں کراچی سے لاہور تک ایم ایل ون کے مختلف حصوں پر ڈبل ٹریک بچھانے سے ٹرینوں کے اوقات کار بہتر ہوئے اور ریلوے کی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اب لاہور سے راولپنڈی تک یہی ماڈل شمالی پنجاب کے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف لاکھوں مسافروں کا سفر آسان ہوگا بلکہ کاروبار، تجارت اور سیاحت کو بھی نئی رفتار ملے گی۔ پاکستان میں جدید ریلوے نظام کا جو خواب کئی دہائیوں سے ادھورا تھا، وہ اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
