28ویں آئینی ترمیم، ملکی نظام حکومت میں کیا کچھ بدلنے والا ہے؟

پاکستان میں ایک بار پھر آئینی اصلاحات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ حکومت کی جانب سے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم پر غور نے سیاسی، آئینی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ مجوزہ آئینی ترمیم محض ایک قانونی تبدیلی نہیں بلکہ وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی نئی تقسیم کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔حکومت کے اتحادیوں، خصوصاً ایم کیو ایم، کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے مطالبات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کو درپیش شدید مالی بحران نے بھی این ایف سی ایوارڈ، دفاعی اخراجات اور 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بننے والے مالیاتی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت کو نمایاں کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اختیارات اور وسائل حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے وفاق صوبوں کو فنڈز منتقل کرتا ہے، اسی طرز پر صوبوں کو بھی اضلاع اور تحصیلوں تک وسائل کی منتقلی آئینی طور پر یقینی بنانا ہوگی۔حکومت کے اندر اس بات پر بھی غور جاری ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے میں تبدیلی کی جائے یا کم از کم اس پر نئی بحث کی جائے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق وفاق قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ صوبوں کے پاس نسبتاً زیادہ وسائل موجود ہیں۔

اسی تناظر میں ایک اہم تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دفاعی اخراجات کو این ایف سی تقسیم سے پہلے الگ کر دیا جائے اور باقی وسائل صوبوں میں تقسیم کیے جائیں تاکہ وفاقی حکومت مالی طور پر مستحکم ہو سکے۔ اگر اس نوعیت کی تجاویز پر سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جائے گی۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت بلدیاتی نظام، این ایف سی ایوارڈ اور تعلیم کے شعبے میں آئینی اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال میں فوری طور پر ترمیم لانا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔

سیاسی تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق اصل مسئلہ 18ویں ترمیم کے بعد پیدا ہونے والا مالیاتی عدم توازن ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کے پاس اخراجات زیادہ جبکہ وسائل محدود ہو چکے ہیں۔ دفاعی بجٹ، قرضوں کی ادائیگی اور وفاقی اداروں کے اخراجات نے مرکز کو کمزور کر دیا ہے جبکہ صوبے مالی طور پر نسبتاً مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے بڑے فلاحی منصوبے صوبوں کے حوالے کیے جا سکتے ہیں تاکہ وفاقی حکومت کے مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں میں صوبوں کے حصے کو بڑھانے یا صوبوں سے اضافی وسائل واپس وفاق کو دینے جیسے فارمولے بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

تاہم اس پورے معاملے میں سب سے بڑی سیاسی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی ہو سکتی ہے، کیونکہ 18ویں ترمیم کو پیپلز پارٹی اپنی بڑی آئینی کامیابی تصور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ یا صوبائی اختیارات میں کسی بھی تبدیلی پر سخت سیاسی ردعمل سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔

سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق 18ویں ترمیم بلاشبہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تھی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اختیارات واقعی عوام تک منتقل ہوئے؟ ان کے مطابق اختیارات اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں تک تو منتقل ہوئے، لیکن مقامی حکومتوں اور عوامی سطح تک اس کے اثرات محدود رہے۔گزشتہ 16 برسوں میں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات میں وہ نمایاں بہتری نہیں آ سکی جس کی امید کی جا رہی تھی۔ اسی لیے اب حکومت پورے انتظامی اور مالیاتی ڈھانچے کا دوبارہ جائزہ لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ اختیارات کی حقیقی منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔اگر 28ویں آئینی ترمیم سامنے آتی ہے تو یہ صرف ایک قانونی ترمیم نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کے سیاسی، مالیاتی اور انتظامی نظام کی نئی تشکیل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ موضوع ملکی سیاست کا سب سے اہم اور حساس معاملہ بننے جا رہا ہے۔

Back to top button