عورتوں سے تعلقات پر نوازالدین کی بیوی نے خلع مانگ لی

معروف بھارتی اداکار نواز الدین صدیقی کی اہلیہ نے اپنے شوہر پر غیر عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے ان سے خلع مانگ لی ہے اور عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ کے وکیل نے بتایا کہ نواز کو ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے خلع کا نوٹس بھیج دیا گیا ہے لیکن انہوں نے اب تک اس کا جواب نہیں دیا۔ وکیل کے مطابق ’یہ نوٹس 7 مئی 2020 کو عالیہ کی جانب سے بھیجا گیا، نوازالدین صدیقی نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، نوٹس میں عالیہ نے نوازالدین سے خلع مانگنے کے ساتھ دونوں بچوں کا خرچا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
نواز کی اہلیہ کے وکیل نے بتایا کہ نوٹس میں اداکار کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں اور وہ ان کے اور ان کی فیملی کے لیے کافی حساس ہوسکتے ہیں‘۔ یاد رہے کہ نوازالدین صدیقی اور عالیہ کی شادی کو 10 سال کا عرصہ ہوچکا ہے، ان کے دو بچے بھی ہیں۔ 2017 میں یہ افواہیں سامنے آئیں تھی کہ ان دونوں کے تعلقات خراب ہورہے ہیں جبکہ ان کی طلاق بھی ہورہی ہے تاہم تب ان دونوں نے ہی ان خبروں کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا۔ لیخن اب عالیہ صدیقی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’مجھے نواز سے ایک نہیں بلکہ کئی مسائل ہیں اور وہ سب خاصے سنگین ہیں‘۔ عالیہ کے مطابق ان کے تعلقات شادی کے ایک سال بعد 2010 سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں میاں بیوی کے تعلقات دراصل تب خراب ہونا شروع ہوئے جب 2017 میں نوازالدین صدیقی نے اپنی سوانح عمری شائع کی جس میں انہوں نے اپنے پرائی عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے حوالے سے کہانیاں بیان کیں۔
اس کےبعد دونوں کے تعلقات تب مزید کشیدہ ہوگئے جب نواز الدین صدیقی پر الزام لگا کہ انہوں نے مبینہ طور پر نجی جاسوسوں سے اپنی اہلیہ کا فون ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس الزام کے بعد ریاست مہاراشٹر اور ممبئی کے نواحی تھانے کی کرائم برانچ پولیس نے نوازالدین صدیقی، ان کی اہلیہ اور ان کے وکیل رضوان صدیقی کو پیش ہوکر اپنا ریکارڈ بیان کرانے کے لیے سمن جاری کیے۔
سچ تو یہ یے کہ بولی وڈ کے ورسٹائل اداکار نوازالدین صدیقی کی زندگی میں مسائل کا آغاز تب ہوا جب ان کی سوانح حیات سامنے آئی، کیوں کہ انہوں نے اپنی سوانح حیات ’’ایک عام زندگی: ایک یادداشت‘(An Ordinary Life: A Memoir) میں ایک نہیں بلکہ دو ایسی خواتین کا کھل کر ذکر کیا، جن سے ماضی میں ان کے ساتھ جنسی تعلقات رہے تھے۔
کتاب کی اشاعت کے بعد ان پر ساتھی اداکارہ نیہاریکا سنگھ نے بھی یہ الزام عائد کیا تھا کہ نوازالدین نے کتاب کو فروخت کرنے کے لیے ایک عورت کو بدنام کرنے کی کوشش کی یے۔
اپنی سوانح حیات میں انہوں نے 2012 میں آنے والی اپنی فلم ’مس لولی‘ کی ساتھی اداکارہ نیہاریکا سنگھ سے اپنے رومانوی تعلقات کے بارے میں بتایا اور دعویٰ کیا کہ ان دونوں کے درمیان لگ بھگ ڈیڑھ سال تک جنسی تعلقات استوار رہے، اور انہوں نے متعدد ملاقاتیں کیں۔ نوازالدین صدیقی کی کتاب کے اقتسابات کے مطابق نیہاریکا سنگھ نے اداکار کے ای میل اکاؤنٹ سے دیگر لڑکیوں کو ای میل بھی کیے۔ نوازالدین صدیقی کے ایسے دعوے کے بعد اداکارہ نیہاریکا نے بھی اپنا مؤقف دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کے اور نوازالدین صدیقی کے درمیان تعلقات کافی عرصے تک نہیں بلکہ محض چند ماہ تک چلے۔
