عورت مارچ پر پتھراؤ،جے یو آئی (ف) رہنما سمیت 12 افراد کیخلاف مقدمہ

اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے عورت مارچ میں خلل ڈالنے اور پتھراؤ کرنے پرجمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالمجید ہزاروی سمیت 12 مختلف مذہبی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
کوہسار پولیس نے سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی ہے جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 147 (فسادات کے لیے سزا)، 149، 186 (عوامی فرائض کی انجام دہی سے سرکاری ملازم کو روکنا)، 188 (سرکاری ملازم کے حکم کو نہ ماننا)، 341 (غلط اقدام کے لیے سزا)، 353 (سرکاری ملازم کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت) شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں جن 12 افراد کے نام شامل کیے گئے ان میں مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا حافظ مقصود احمد، مولانا رضوان مکی، مفتی عبداللہ، مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا عبدالرشید توحیدی، مولانا لیاقت علی ترابی، مولانا ناصر احمد، مولانا اسد اللہ عباسی، مولانا عبدالمجید ہزاروی اور مولانا عبدالرزاق حیدری شامل ہیں۔
پولیس کی درج ایف آئی آر کے مطابق مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور مدارس کے طلبہ کی جانب نیشنل پریس کلب کے پار سڑک پر غیرقانونی طور پر قبضہ کیا گیا۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ رہنماؤں نے عوام کوعورت مارچ کے شرکا کے خلاف تشدد کے لیے اکسایا جس کے بعد کچھ افراد نے مارچ کرنے والوں پر پھتر پھینکے جبکہ طاقت کے استعمال کرتے ہوئے مارچ کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی۔
Case registered https://t.co/mUJxED28nC pic.twitter.com/YPReP9jaZy
— Office of Deputy Commissioner Islamabad (@dcislamabad) March 9, 2020
علاوہ ازیں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد حمزہ شفقت نے ٹوئٹر پر ایف آئی آر کی نقل شیئر کی ہے.یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا تھا کہ عورت مارچ میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ انکوائری کے بعد لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا، پولیس کی جانب سے حالات قابو میں رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کی گئی لیکن کچھ عناصر نے قانون کو توڑا اور ان کے پاس این او سی بھی نہیں تھا۔ یہی نہیں بلکہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا تھا جنہوں نے ‘پرامن مظاہرین پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا’ تھا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کی مناسبت سے مختلف تقریبات و مظاہروں کا انعقاد کیا گیا تھا اور دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن ’میں مساوات پر یقین رکھنے والی نسل ہوں اور مجھے خواتین کے حقوق کا ادراک ہے‘ کے عزم کے اظہار کے ساتھ منایا جا گیا تھا۔’یوم خواتین‘ منانے کا آغاز ایک صدی سے زائد عرصے سے قبل 1909 میں امریکا سے اس وقت شروع ہوا تھا جب خواتین نے پہلی بار فیکٹریوں میں ملازمت کے لیے اپنی تنخواہیں بڑھانے اور وقت کی میعاد مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے قبل خواتین کو ملازمتوں کے دوران کم اجرت دیے جانے سمیت ان سے زیادہ دیر تک کام کروایا جاتا تھا۔
خواتین اس تفریق کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور جلد ہی انہوں نے اپنے مطالبات تسلیم کروالیے تاہم خواتین کی جانب سے حقوق کے لیے جدوجہد ختم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی گئی اور آنے والے سال میں خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والی دیگر ناانصافیوں پر بھی آواز اٹھانا شروع کی۔ جلد ہی امریکا سے لے کر یورپ اور پھر ایشیا اور افریقہ جیسے خطے میں خواتین کے مظاہرے ہونے لگے اور خواتین کی تنظیمیں اور دیگر ایکشن فورم تشکیل پانے لگے اور ان ہی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے خواتین نے دنیا کو اپنی اہمیت و حیثیت سے آگاہ کیا۔ کئی سال کی محنت اور مظاہروں کے بعد 1977 میں اقوام متحدہ (یو این) نے 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا اور تب سے ہر سال اسی دن پر دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں خواتین مختلف تقریبات، سیمینارز اور مظاہروں کا انعقاد کرتی ہیں۔
خیال رہے کہ اتوار 8 مارچ کو عالمی یوم نسواں کے موقع پر ہونے والے عورت مارچ کے شرکا پر کچھ افراد کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک فرد زخمی بھی ہوا تھا۔ مذکورہ ریلی نیشنل پریس کلب کے باہر مختص کی گئی جگہ پر موجود تھی کہ جب واقعہ رونما ہوا، تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو کرلیا تھا۔
