عید پر کم قیمت اور دیدہ زیب لباس کیسے خریدا جائے؟

عید کی آمد کے ساتھ ہی خواتین کی خریداری عروج پر پہنچ جاتی ہے جس میں سب سے اہم مرحلہ سوٹ کے انتخاب کا ہوتا ہے، خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ مناسب قیمت میں دیدہ زیب لباس کا انتخاب کیا جائے لیکن لباس اگر اچھا ہو تو اس کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ ایسا ہی منظر ماڈل صدف کنول کے برانڈ کی لانچنگ کے دوران دیکھنے میں آیا جب ایک سادہ سوٹ کی قیمت 30 ہزار روپے بتائی گئی، اس کے بعد کسی نے سوٹ کے ڈیزائن پر تنقید کی تو کسی نے قیمت پر اعتراض اٹھایا جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے تو یہ بھی لکھا کہ اس سوٹ کی قیمت ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ہم اس سے بہتر سوٹ خود بنا سکتے ہیں۔
لیکن ناقدین کے اعتراض کے باوجود اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کا ماننا ہے کہ اگر آپ خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور آپ کو جوڑا پسند ہے تو مہنگا خریدنے میں بھی کوئی ہرج نہیں، خواتین کے تاثرات کے حوالے سے نتاشا خان نے بتایا کہ مشہور اور مقبول ڈیزائنرز تو اپنے نام پر منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں جبکہ ایسے ڈیزائنر جو ابھی بازار میں اپنا نام بنانے کے لیے کوشاں ہیں ان کے دام بھی کم ہیں۔
نتاشا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہم لوگوں نے دیگر خرچے بھی پورے کرنے ہوتے ہیں جیسا کہ جب آپ اچھی جگہ پر اپنا سٹور کھولتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو خرچے بھی زیادہ کرنے پڑتے ہیں، جب ہم کسی جوڑے کا صرف ایک پیس تیار کرتے ہیں تو وہ ہمیں زیادہ مہنگا پڑتا ہے اور اگر ہم کسی ڈیزائن کو بڑی تعداد میں تیار کرواتے ہیں تو وہ ہمیں سستا پڑتا ہے اور اس میں ہمارے ساتھ ساتھ گاہک کو بھی فائدہ ہوتا ہے، زیادہ تر گاہک ڈیزائنر کے پاس اس لیے جاتے ہیں تاکہ وہ ایسا جوڑا خرید سکیں جو ان کے علاوہ کوئی اور نہ پہنے، یہاں اپنی اپنی پسند آ جاتی ہے۔
تاہم نتاشا کے مطابق ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ ایک جوڑے کی کاپی کروائیں اور وہ بالکل ویسی ہی ہو کیونکہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی غیرمعیاری چیز استعمال ہو ہی جاتی ہے جس کی وجہ سے لاگت کم ہو جاتی ہے،
لیکن ایسے ڈیزائنرز بھی ہیں جو ان سے اپنے کپڑے کم قیمت پر تیار کرواتے ہیں اور پھر اپنے شوروم پر زیادہ قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔
ایک بات طے ہے کہ عید کلیکشن لانچ کرنے والوں کی چاندی ہوتی ہے، کئی تو ایسے برینڈ ہیں جو عید سے دس دن پہلے ہی معذرت کر لیتے ہیں کہ اگر پہلے 20 روزوں میں آرڈر دیں گے تو عید سے پہلے سوٹ ملے گا ورنہ نہیں، کاپی کیٹ کی بجائے اصلی سوٹ مہنگے داموں خریدنے والوں کا کہنا ہے جو محنت جوڑا ڈیزائین کرنے پر ہوتی ہے، اصل پیسے تو اسی کے ہوتے ہیں، کاپی تو کوئی بھی کر سکتا ہے، اس لیے اگر ڈیزائنر اپنی محنت کے پیسے زیادہ وصول کرتے ہیں تو وہ جائز ہے۔
