غلیظ تبصروں نے سوشل میڈیا کو ایک گندہ تالاب کیسے بنایا؟

آج کل سوشل میڈیا صارفین ایک کثیر تعداد نے ٹرولنگ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو ایک ایسا گندہ تالاب بنادیا ہے جہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ بالخصوص خواتین کے ساتھ تو بدتہذیبی کی تمام حدیں پار کرلی جاتی ہیں۔
’تم موٹی لگ رہی ہو۔۔۔ یہ تم نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں۔۔۔ تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔۔۔ تم جیسی عورتوں کی بات کوئی نہیں سنتا۔۔۔ اگر سب مرد بُرے ہیں تو اپنے شوہر اور باپ کو بھی مار ڈالو۔۔۔ تم تو ہر بات پر شکایت کرتی ہو۔۔۔‘۔ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے اپنی پوسٹس پر ایسے بہت سے تبصرے اور کمنٹس یقیناً کبھی نا کبھی آپ کو بھی پڑھنے اور دیکھنے کو ملیں ہوں گے، اور اگر ایسا نہیں تو آپ واقعی دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں۔
چلیں اپنی پوسٹس پر نہ سہی دوسرے لوگوں کی پوسٹس پر ایسے کمنٹس تو آپ کی نظروں سے ضرور ہی گزرے ہوں گے۔ سوشل میڈیا نے آج کی دنیا میں جہاں لوگوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ کیا ہے وہیں اس کی وجہ سے اکثر لوگوں کو منفی رویوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پھر چاہے وہ کوئی مشہور شخصیت ہوں، یا کوئی عام صارف تقریباً ہر دوسرے شخص کو سوشل میڈیا پر کبھی نہ کبھی گالم گلوچ، نازیبا الفاظ اور ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی آپ کے کام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی آپ کی شکل و صورت کو، کبھی کسی معاملے پر آپ کی رائے کو تو کبھی آپ کے لباس پر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ تبصرے صرف انجان لوگوں کی جانب سے نہیں بلکہ اکثر اوقات اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی جانب سے بھی سننے کو ملتے ہیں۔
ان منفی رویوں کا سامنا کرنے والے افراد کی نہ صرف ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ان میں سے اکثر سوشل میڈیا کا استعمال کم یا ترک بھی کر دیتے ہیں۔ بی بی سی نے کچھ ایسی ہی خواتین سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے منفی کمنٹس نے ان کی ذہنی صحت کو کیسے متاثر کیا۔
وردہ نور کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر لیہ سے ہے لیکن وہ لاہور کے ایک تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم ہیں۔ پڑھائی کے علاوہ سماجی طور پر بھی وہ کافی متحرک ہیں۔ وردہ دو سال سے خود بائیک چلا کر مختلف شہروں میں بھی جا چکی ہیں۔ وردہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر انہیں اکثر نازیبا الفاظ اور یہاں تک کہ گالم گلوچ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی ان کے کام پر بات کی جاتی ہے تو کبھی ان کی ذات کو نفرت انگیز کمنٹس کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اکثر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ اس کو ادھر بلاؤ میں اسے بتاتا ہوں کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔ پہلے دوپٹہ لو پھر ہم تمہاری بات سنیں گے۔۔۔ اس طرح کے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں۔۔۔ تم ہمارے شہر کو بدنام کر رہی ہو۔۔۔ ایسی عورتوں کی کوئی بات نہیں سنتا۔۔۔‘۔ وردہ نے مزید بتایا کہ میری دونوں بھنوؤں کے درمیان بال ہیں۔ ایک بار سوشل میڈیا پر میری ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس پر کافی سارے لڑکوں نے لکھا کہ اس کی آنکھوں پر بال تو دیکھو، مرد لگ رہی ہے۔ وردہ کا کہنا ہے کہ ان منفی رویوں نے نہ صرف اُن کی ذہنی صحت کو متاثر کیا بلکہ وہ اکثر ان سب لغویات سے بچنے کےلیے سوشل میڈیا کا استعمال ہی روک دیتی ہیں۔ میری ایک بائیک والی تصویر پر مجھے بہت گالیاں دی گئیں، ریپ کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں، ایسی صورت حال میں، میں کافی دن کےلیے سوشل میڈیا استعمال کرنا چھوڑ دیتی ہوں لیکن اس کے بعد بھی کوئی بھی پوسٹ کرنے سے پہلے میں بہت زیادہ سوچتی ہوں۔ میرے خیال میں اس سے آپ کی سوشل میڈیا پر موجودگی بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں ان منفی رویوں سے نمٹنے کےلیے تھراپی بھی لیتی ہوں لیکن پھر بھی ڈر لگتا ہے کہ چھوٹا سا بھی کوئی ٹویٹ کیا تو وہ وائرل ہو جائے گا اور مجھے گالیاں پڑیں گی۔
کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار لاہور میں شعبہ تدریس سے وابستہ حبہ اکبر نے بھی کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ماضی میں سوشل میڈیا پر اپنی بہت سی تصاویر شیئر کیا کرتی تھیں جس کا انہیں خاص دھیان رکھنا پڑتا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ، چاہے وہ آپ کے گھر والے ہی کیوں نہ ہوں، کہہ دیتے ہیں کہ آپ نے یہ کیا پہنا ہوا ہے، کیوں پہنا ہوا ہے، آپ نے ایسی شکل کیوں بنا رکھی ہے، تو آپ کو بہت سوچنا پڑتا ہے تو اس لیے اب میں اپنی تصاویر کم ہی لگاتی ہوں۔ حبہ کے مطابق اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر حالات حاضرہ یا حساس موضوعات پر بات کرنے پر بھی بہت سے نفرت انگیز کمنٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ غلیظ گالیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں تجھے کیا پتا، میں تیرے منہ پر تھوکوں گا۔۔۔ آپ ایسی باتوں کو نظر انداز تو کرتے ہیں لیکن آپ تھک بھی جاتے ہیں۔ ذاتی طور پر آپ ڈر جاتے ہیں، آپ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حبہ نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا پر آپ کی کسی پوسٹ پر کوئی ایسا کمنٹ نہ بھی ہو تو دیگر لوگوں کے پوسٹس پر ایسے گندے گندے کمنٹس دیکھ کر آپ تنگ آ جاتے ہیں اور اداس ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے وہ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر پرائیویسی کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ کچھ پوسٹس کو میں پبلک رکھتی ہوں لیکن کچھ کی پرائیویٹ سیٹنگ رکھتی ہوں۔ سوشل میڈیا پر کوئی نفرت انگیز کمنٹ کرتا ہے تو اس کے ساتھ دو چار لوگ اور مل جاتے ہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی ماہر نفسیات مریم سہیل کہتی ہیں کہ آن لائن یا سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور منفی کمنٹس کسی بھی شخص کی ذہنی حالت پر بالکل ایسے ہی اثر انداز ہوتے ہیں جیسے آپ کسی کے سامنے بیٹھ کر گالم گلوچ کریں، انہیں بُرا بھلا کہیں یا منفی رویہ رکھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر آپ اکثر ان چیزوں کا اچھے طریقے سے جواب بھی نہیں دے سکتے کیوں کہ اگلا بندہ نجانے کہاں بیٹھا ہے۔ دوسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک شخص کو دیکھ کر دوسرا شخص بھی رنگ پکڑتا ہے۔ ایک کوئی نفرت انگیز کمنٹ کرتا ہی تو اس کے ساتھ دو چار اور مل جاتے ہیں۔ آپ بازار جاتے ہیں آپ کی کسی سے لڑائی ہوتی ہے، آپ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں تو یہ بات آپ اور آپ کے آس پاس لوگوں میں رہتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر پوری دنیا کو رسائی ہوتی ہے اور آپ کی تکلیف کا دائرہ بہت وسیع ہو جاتا ہے۔ مریم سہیل کہتی ہیں کہ آپ کے ارد گرد موجود ان لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو نفرت انگیز کمنٹس کو دیکھتے تو ہیں لیکن کچھ کہتے نہیں۔ اگر آپ کی پوسٹ پر کسی نے نفرت انگیز کمنٹ کیا ہے تو اس کمنٹ کو دیکھنے والے چار دیگر لوگوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کے نیچے کمنٹ کریں کہ یہ بدتمیزی ہے، یہ ذاتی حملہ ہے، ایسی بات نہ کریں۔ مریم کہتی ہیں کہ ایسا کرنے سے دھیرے دھیرے لوگوں میں یہ رویہ کم ہو سکتا ہے۔انہیں پتا چلتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے، لوگوں کو سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ایسے کمنٹس پر لوگ خوش نہیں ہوتے بلکہ برا سمجھتے ہیں۔ مریم کہتی ہیں کہ عزیز و اقارب کی جانب سے ایسے منفی کمنٹس ملنے پر ضروری ہے کہ ہم انہیں ضرور باور کرائیں کہ یہ رویہ بالکل بھی درست نہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ آپ انہیں توجہ دلائیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، یا مجھے یہ پسند نہیں ہے، یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ آپ ایسا رویہ برداشت نہیں کریں گے۔ ایک بار، دو بار، تین بار کہنے کے بعد ہی حد قائم کی جا سکتی ہے۔
