فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی نے حکومت سے 12 اکائونٹس چھپائے

پاکستان تحریک انصاف نے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں 12 بینک اکائونٹ ڈیکلیئر کیے جبکہ 53 پارٹی بینک کائونٹس چھپائے گئے، حکمران جماعت نے الیکشن کمیشن کے سامنے 2008 سے 2012 تک چار سالوں کے دوران مجموعی طور پر 1 ارب 33 کروڑ کے عطیات ظاہر کیے، ریکارڈ کے مطابق پی ٹی آئی کے مجموعی طور پر 65 بینک اکائونٹس ہیں، حکمران جماعت کی جانب سے الیکشن کمیشن میں عطیات کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔
دریں اثنا پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی استدعا کی تھی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، حکومتی وکیل شاہ خاور نے موقف اپنایا کہ یہ رپورٹ صرف فریقین کے لیے ہے اور انہیں ہی فراہم کی جانی چاہئے، جائزہ لے کر بتائیں گے کہ اس رپورٹ کو پبلک کرنا ہے یا نہیں۔
اس پر کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ یہ ان کیمرا کارروائی تو نہیں،اوپن کورٹ کی کارروائی کو کیسے خفیہ رکھ سکتے ہیں؟ اس پر وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دیگر جماعتوں کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے دیں، اس کے بعد سب کو اکٹھا دیکھیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سب رپورٹس کو اکٹھا نہیں کیا جا سکتا، رپورٹ کی کاپیاں تمام فریقین کو دے دیتے ہیں، شاہ خاور نے کمیشن سے ایک بار پھر استدعا کی کہ کمیشن آرڈر پاس کرے کہ فریقین اسے پبلک نہ کریں، ہمیں جانچ پڑتال کا موقع دیا جائے۔
تاہم چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ہم اس قسم کا آرڈر پاس کرنے کی پوزیشن میں نہیں، دوران سماعت اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ جوابدہ کے کہنے پر سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ خفیہ نہیں رکھی جا سکتی۔ سب چیزیں اوپن ہوتی ہیں۔
عزیر بلوچ رینجرز اہلکار قتل کیس میں بری
سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ اوپن کورٹ میں ہم پابندی نہیں لگا سکتے، کمیشن میں یہ اتفاق ہے کہ رپورٹ کو پبلک کرنے کی ممانعت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ تمام فریقین کو فراہم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل کی درخواست پر سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کر دی۔
