ففٹی ففٹی سے عروج پا کر کامیڈی کنگ بننے والے اسماعیل تارا

پی ٹی وی کے معروف مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی سے شہرت حاصل کرنے کے بعد کامیڈی کنگ کا لقب حاصل کرنے والے اسماعیل تارا نے اپنے فن اداکاری سے نہ صرف ڈراموں بلکہ فلمی دنیا میں بھی خوب نام بنایا اور 73 سال کی عمر میں اپنی وفات تک فیلڈ میں متحرک رہے۔ تارا 16 نومبر 1949 کو پاکستان کی آزادی کے محض دو سال بعد کراچی میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے اور زندگی کو آگے بڑھانے کے خواب آنکھوں میں سجائے اسماعیل تارا نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 1980 میں فن اداکاری سے وابستہ ہونے کے بعد اسماعیل تارا نے سینکڑوں ڈراموں اور فلموں میں کام کرنے کے علاوہ تھیٹر میں بھی کئی لازوال کردار ادا کیے۔ تاہم انہیں اصل شہرت اور پہچان 1980 کی دہائی میں پی ٹی وی کے مزاحیہ خاکوں کے پروگرام ففٹی ففٹی سے ملی، انہیں بہترین کامیڈین کے درجنوں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ففٹی ففٹی میں ماجد جہانگیر اور زیبا شہناز کے ساتھ انکی جوڑی بہت کامیاب ثابت ہوئی۔
اسماعیل تارا نے ٹی وی کے علاوہ 14 پاکستانی فلموں میں بھی کام کیا۔ انہیں مسلسل چار سال بہترین مزاحیہ اداکاری پر پاکستان کا اعلیٰ ترین نگار ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، انہیں پہلا نگار ایوارڈ 1993 میں فلم ہاتھی میرے ساتھی میں لازوال پرفارمنس پر دیا گیا، دوسرا ایوارڈ 1994 میں فلم آخری مجرا میں بہترین کامیڈی پرفارمنس پر دیا گیا، 1995 میں انہوں نے فلم منڈا بگڑا جائے میں ایسی زوردار پرفارمنس دی کہ فلم بین انہیں داد دیئے بغیر نہ رہ سکے، لہٰذا اس فلم پر بھی اسماعیل تارا نگار ایوارڈ کے حق دار قرار پائے، اس کے بعد 1996 میں ریلیز ہونے والی فلم چیف صاحب میں تارا نے ایسے قہقہے بکھیرے کہ ایک مرتبہ پھر ان کو نگار ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔
اسماعیل تارا نے ٹی وی کیلئے 1964 میں ہی کام شروع کر رکھا تھا لیکن انہیں اصل شہرت 1980 سے ملنا شروع ہوئی۔ اسماعیل تارا نے ہاتھی میرے ساتھی نامی فلم میں لوگوں کے چہروں پر ایسی مسکراہٹ بکھیری کہ وہ ہر فلمساز کی پہلی چوائس بن گئے، اس کے بعد ایک کے بعد ایک ان کو فلموں میں کاسٹ کیا جانے لگا۔ 1993 میں ان کی فلم ہاتھی میرے ساتھی ریلیز ہوئی، 1994 میں آخری مجرا کی نمائش ہوئی، 1995 میں منڈا بگڑا جائے ریلیز ہوئی، 1996 میں انکی فلم چیف صاحب آئی، 1997 میں ہم کسی سے کم نہیں ریلیز ہوئی، اسکے بعد 1998 میں جان جان پاکستان، راجو، دیورایں، کبھی ہاں کبھی ناں نامی فلمیں ریلیز ہوئیں، سال 1999 میں مجھے جینے دو، سال 2000 میں مجھے چاند چاہئے، سال 2002 میں یہ دل آپ کا ہوا، سال 2008 میں کھلے آسمان کے نیچے، سال 2013 میں ‘میں ہوں شاہد آفریدی’، 2015 میں جوانی پھر نہیں آنی اور ہلا گلا نامی فلمیں چلیں۔ پھر سال 2016 میں سوال 700 کروڑ ڈالر کا نامی فلم آئی۔ سال 2018 میں اسماعیل تارا کی ریلیز ہونے والی فلموں میں جیک پوٹ اور دی ڈونکی کنگ سامک تھیں جبکہ 2019 میں ان کی فلم ریڈی سٹیڈی نو ریلیز ہوئی۔ ان تمام فلموں میں اسماعیل تارا نے مزاحیہ اداکاری کی اور فلم بینوں کو ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیا۔
تارا نے فلموں کے علاوہ ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا جادو خوب جگایا، 1980 میں انکا ڈرامہ ففٹی ففٹی ریلیز ہوا، اسی طرح 1987 میں گھراما، 2005 میں ربڑ بینڈ، 2008 میں یہ زندگی ہے اور نادانیاں ریلیز ہوئے، 2012 میں ون وے ٹکٹ، پاک ولا، دہلی کالونی چلے، پھر 2013 میں اورنگی کی انوری اور بلبلے ریلیز ہوئے، 2018 میں جن کی آئے گی بارات، مرچیاں، اور نمک پارے نامی ڈرامے آئے۔ سال 2019 میں انکے دو ڈرامے برفی لڈو اور بھائی بھائی ریلیز ہوئے جب کہ سال 2022 میں ان کا آخری ڈرامہ وہ پگلی سی ریلیز ہوا جس میں ان کی پرفارمنس کو خوب سراہا گیا۔
اسماعیل تارا نے فلم اور ٹی وی کے ساتھ سٹیج کامیڈی میں بھی خوب نام بنایا، ان کا پہلا سٹیج ڈرامہ سونے کی چڑیا تھا جس کو کافی سراہا گیا، اسماعیل تارا نے کارٹون فلم ’’ڈونکی راجا‘‘ میں چاچا کے کردار کی ڈبنگ کی جس کو فلم بینوں نے کافی پسند کیا۔ تاہم بدقسمتی سے اسی دوران اسماعیل تارا گردوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور 24 نومبر 2022 کو یہ عظیم کامیڈین دنیا سے رخصت ہو گیا۔