فوجی اڈا دینے پر پاک امریکا تعلقات میں ڈیڈ لاک کیوں آیا؟

اطلاعات ہیں کہ امریکا نے بلوچستان میں اپنی فوجی ائیر بیس قائم کرنے کے لیے پاکستانی فوجی قیادت سے جو مذاکرات شروع کیے تھے وہ افغان طالبان کے سخت ردعمل کے بعد فی الوقت تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کے دوران اور بعد میں پاکستان میں فوجی ایئربیس سے طالبان کے خلاف ڈرون حملے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن دوسری جانب افغان طالبان نے ایک دھمکی نما پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینا بہت بڑی غلطی ہو گئی جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ‘سی آئی اے’ کے سربراہ نے حال ہی میں پاکستان کا ایک خفیہ دورہ کیا جس کے دوران ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقاتیں ہوئیں جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ یاد رہے کہ امریکی سی آئی اے نے اس سے قبل بھی مشرف دور میں شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے شروع کرنے کے لیے پاکستان میں ایک بیس کا استعمال کیا تھا، تاہم بعد ازاں 2011 میں ان سے یہ سہولت تب واپس لے لی گئی تھی جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے تھے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدے داروں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ فوجی اڈے کے قیام پر مذاکرات ابھی تعطل کا شکار ہوچکے ہیں، لیکن یہ آپشن اب بھی ٹیبل پر موجود ہے اور ابھی بھی یہ معاہدہ ممکن ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ بلوچستان ایئر بیس سے افغانستان میں ہونے والے حملوں کی پیشگی منظوری لی جائے گی۔ تاہم پاکستان نے ابھی اس تجویز پر اتفاق نہیں کیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے پاکستان سے بلوچستان میں امریکی ائیر فورس کے لیے ایک نئی ائیر بیس بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسکے بعد یہ خبر آئی تھی کہ پاکستان ایئر فورس نے تصدیق کی ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان میں ایک نیا فضائی اڈہ یا ایئر بیس بنانے پر غور کر رہی ہے۔ ضلع نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بی بی سینکو بتایا تھا کہ ایئرفورس نے اس سلسلے میں اراضی کے حصول کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد انھیں نصیر آباد کے علاقے نوتال میں ایک جگہ کا معائنہ کرایا گیا تھا۔ پھر پینٹاگون کے ایک عہدیدار ڈیوڈ ایف ہیلوے نے یہ بیان دیا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود اپنی افواج کی سپورٹ کے لیے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم حسب توقع ترجمان پاک فضائیہ نے ان خبرون کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں نہ تو امریکن افواج ہیں اور نہ ہی کوئی ایئر بیس اور نہ ہی کوئی ایسی تجویز زیر غور ہے۔ ‘اس حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں جن سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اب نیو یارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جے برنز نے حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور انٹر سروسز انٹلی جنس کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ فیض حمید سے ملاقات کے لیے اسلام آباد کا غیر اعلانیہ خفیہ دورہ کیا تھا جو ناکام رہا۔ اس سے پہلے بھی امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن کی پاک فوج کے سربراہ سے افغانستان میں مستقبل میں امریکی آپریشنز کے لیے ان کی مدد حاصل کرنے کے بارے میں متعدد بار ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ولیم جے برنز نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران انسداد دہشت گردی کے تعاون کا ایجنڈا دیا۔ لیکن امریکا کو پاکستان میں فوجی اڈہ دینے پر معاملات تعطل۔کا شکار رہے۔ اس معاملے پر پاکستانی ہچکچاہٹ بارے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین پر کسی بھی فوجی اڈے کو افغان طالبان کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال کرنے کے لیے معاہدہ کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘اس کے باوجود چند امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان کسی بیس تک امریکی رسائی کی اجازت دینا چاہتا ہے تو وہ اس پر کنٹرول رکھے گا کہ اس کا استعمال کیسے ہوگا’۔ اس رپورٹ میں گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں رہنے تک کوئی امریکی بیس کی اجازت نہیں دی جائے گی’۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے افغان طالبان نے بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے امریکی فوج کو ان کے خلاف اڈے فراہم کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سی آئی اے نے 2008 میں بلوچستان میں شمسی ایئر بیس کا استعمال دہشت گردوں کے خلاف سینکڑوں ڈرون حملے کرنے کے لیے کیا تھا، ان حملوں کا مرکز بنیادی طور پر پاکستان کے پہاڑی قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے القاعدہ کے مشتبہ کارکن تھے لیکن انہوں نے افغانستان میں سرحد عبور بھی کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ‘عوامی طور پر یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ سی آئی اے کو آپریشنز کی اجازت دے رہی ہے اور وہ ایک نئے تعلقات کے ساتھ محتاط انداز میں آگے بڑھنا چاہے گی’۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ‘پاکستانیوں نے ملک میں بیس کے استعمال کے بدلے میں متعدد پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سی آئی اے یا فوج کے افغانستان میں کسی بھی اہداف پر حملے ان کی اجازت سے ہوں گے۔ تاہم فیاکوقت پاکستانی اور امریکی فوجی قیادت کے مابین اس معاملے پر مذاکرات کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے لیے بلوچستان میں نئی ایئر بیس بنانے کے لیے مجوزہ علاقہ بلوچستان میں نوتال کے ضلع نصیر آباد کے ہیڈکوارٹرز ڈیرہ مراد جمالی سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نوتال ایک چٹیل میدانی علاقہ ہے اور اس کا بڑا حصہ زرخیز نہیں ہے لیکن بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع نصیر آباد کے بعض علاقے شورش سے متاثر رہے ہیں۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میڈیا پر چلنے والی یہ خبریں بے بنیاد اور محض افواہ ہیں کہ یہاں بننے والا ایئر بیس امریکہ کے لیے بنایا جا رہا ہے یا ان کے حوالے کیا جائے گا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق اگر فضائی اڈے پر کام شروع ہوا تو یہ راتوں رات تعمیر نہیں ہو جائے گا بلکہ حتمی فیصلے اور منظوری کے بعد اس کو مکمل ہونے میں آٹھ سے دس سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ نصیر آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق انہیں نہیں معلوم کہ مجوزہ زمین پر پاکستان کی فضائیہ نے ائیر بیس کے علاوہ کوئی کالونی بنانی ہے، کوئی آپریشنل سائٹ بنانا ہے یا کوئی کنسٹرکشن کرنی ہے لیکن یہ طے یے کہ یہ کوئی بڑی ایئر بیس نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان فضائیہ کو خوش آمدید کہا ہے کہ وہ آئیں کیونکہ اس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔’

Back to top button