فوج سے کوئی لڑائی نہیں، صحافیوں پر حملے روکے جائیں

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے چند روز قبل کی جانے والی اپنی ایک تقریر پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج سےان کی کوئی لڑائی نہیں، ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ حامد میر نے صحافیوں پر حملے روکنے اور ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا.
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ (آر آئی یو جے) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک وضاحتی بیان میں صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ’میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا لیکن میرے الفاظ سے پہنچنے والی تکلیف پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘
آر آئی یو جے کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں حامد میر نے اپنی اسی تقریر کے حوالے سے کہا ہے کہ ’میری تقریر سے پیدا ہونے والے غلط تاثر کا مجھے بخوبی احساس ہے۔‘حامد میر نے مزید کہا کہ ’میں بغیر کسی بھی دباؤ کے اپنے ضمیر ، احساس ذمہ داری اور مروجہ صحافتی اقدار کے تحت یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنی تقریر میں کسی فرد کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میری فوج سے کوئی لڑائی ہے۔ میں فوج کا بحیثیت ادارہ احترام کرتا ہوں۔‘ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ رکوایا جائے اور ذمہ داران کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں اسلام ْآباد میں صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران حامد میر نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کے افسران پر نام لیے بغیر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر صحافیوں کو گھر میں گھس کر مارا جائے گا تو صحافی گھر میں گھس کر تو نہیں مار سکتے مگر ہم آپ کے گھر کی خبریں سامنے لائیں گے اور آپ کے نقاب نوچیں گے۔‘
ان کی اس تقریر کے بعد نجی ٹی وی چینل جیو نے حامد میر کو معروف پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ کرنے سے روک دیا تھا۔ جیو کی انتظامیہ نے تصدیق کی تھی کہ حامد میر غیر معینہ مدت تک جیو ٹی وی کے معروف پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ کی میزبانی نہیں کر پائیں گے۔
