قتل کیس درج ہونے کے بعد سینئر وزیرعلیم خان مشکلات کا شکار

اسلام آباد میں واقع پارک ویو ہاوسنگ سوسائٹی کے این او سی کی معطلی اور 200 کنال زمین پر قبضے کی کوشش میں ایک شخص کے قتل میں نامزد ہونے کے بعد لگتا ہے کہ پنجاب کے سینئیر وزیر علیم خان کا برا وقت ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔
28 جنوری کے دن جب وفاقی وزیر فواد چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر قبضہ مافیا کے خلاف دھواں دھار پریس کانفرنس کررہے تھے تو اسی دوران اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے سنیئر وزیر عبد العلیم خان کے مبینہ ایما پر 200 کنال زمین پر قبضے کی کوشش کی گئی۔ مزاحمت کے دوران ایک شخص قتل ہو گیا اور کئی زخمی ہوگئے۔ لیکن اس معاملے کو میڈیا میں نہیں آنے دیا جا رہا حالانکہ اس کیس میں علیم خان کے خلاف بنی گالہ تھانے میں قتل اور قبضے کی کوشش کا پرچہ درج ہو چکا ہے۔ اب اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا علیم خان سے سینئیر وزیر کا عہدہ واپس لے لیا جائے گا؟ اس معاملے پر تجزیہ کار یہ پیشنگوئی کر رہے ہیں کہ علیم خان کپتان کی گڈ بکس سے نکل چکے اور ممکنہ طور پر ان کو کٹہرے میں لا کر یہ تاثر دیا جائے گا کہ قبضہ مافیا کے خلاف جاری آپریشن میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
یاد رہے کہ 28 جنوری کو اسلام آباد کے ایک شہری نے اپنی زمین پر ناجائز قبضے کی کوشش کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص کے قتل کی ایف آئی آر بنی گالا تھانے میں پنجاب حکومت کے سینیئر وزیر عبدالعلیم خان سمیت متعدد افراد کے خلاف درج کرائی تھی جن کی اسلام آباد میں پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی موجود ہے۔ تھانہ بنی گالہ کی حدود ملوٹ میں مقامی شہریوں کی قیمتی اراضی پر قبضہ کرنے کے دوران بااثر قبضہ مافیا کے 90 سے زائد کارندوں کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے افسوسناک واقعہ میں پولیس نے پی ٹی آئی کے سینیئر صوبائی وزیر پنجاب اور پارک ویو سوسائٹی کے مالک عبد العلیم خان سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشتگردی ، قتل، اقدام قتل سمیت دس سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ پولیس حکام نے مجرمانہ غفلت اور ملزمان کی پشت پناہی کرنے والے ایس ایچ او تھانہ بنی گالہ کو فوری طور پر معطل کر دیا۔
واقعہ کا مقدمہ ایک شہری سید تصدق حسین شاہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے چوہدری گلباز کی گردن میں بائیں جانب گولی لگی جبکہ نصیر حسین شاہ کے سر کے بائیں جانب کنپٹی کے اوپر فائر لگا،جس سے دونوں شدید زخمی ہوئے۔ ایف آئی ار رپورٹ کے مطابق ملزمان نے رقبہ پر جانے کے تمام راستے بند کر رکھے تھے تاکہ کوئی آ جا نہ سکے لہذا راستے بند ہونے کی وجہ سے چوہدری گلباز کو پمز ہسپتال پہنچانے میں تاخیر ہوئی اور وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق پارک ویو سوسائٹی کے مالک عبد العلیم خان، ملک طاہر، مرزا نوید، فضیل ولد نذیر اور سہیل ولد فضیل کے ایماء پر ملزمان نے فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع سے دو ملزمان فیصل رحمان اور قاسم علی کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
مدعی سید تصدق حسین شاہ کا کہنا ہے اس واقعے کی ایف آئی آردرج ہوچکی ہے مگر یہ معاملہ دبانےکی کوشش ہو رہی ہے۔ مدعی کا دعویٰ ہےکہ میری زمین پرقبضےکیلئے حملہ عبد العلیم خان نےکروایا کیونکہ وہ ان کی 200 کنال سے زائد زمین اپنی پارک ویو سوسائٹی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ انکامکہنا ہے کہ لاہور میں بھی عبدالعلیم خان کو منشاءبم جیسےقبضہ گروپس کا سرغنہ سمجھاجاتا ہے اور یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ کئی قبضہ گروپ علیم خان کی پشت پناہی میں کام کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ قبضہ گروپس کے خلاف کارروائیوں کا راگ الاپنے اور اسکی آڑ میں سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے اور بلیک میل کرکےسیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوششوں میں مصروف عمران خان اپنی پارٹی میں اور حکومت میں اہم عہدے پر موجود قبضہ مافیا ڈان عبدالعلیم خان کو کیوں بھول رہے ہیں۔ اپوزیشن کے لوگوں کو بنا کسی ثبوت کے بنا کسی ایف آئی آر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن علیم خان کے خلاف قتل کی نامزد ایف آئی آر کے باوجود انکو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
واقفان حال کا کہنا ہے لاہور میں فردوس مارکیٹ انڈرپاس کے پہلو میں علیم خان کا پلازہ بچا کر جہاں ایک طرف صلح کاپیغام دے کر اس اے ٹی ایم کو اینٹھا گیا وہیں پر اس کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کروا کر کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اب اپنی بڑی اے ٹی ایم مشین یعنی جہانگیر ترین کے ساتھ کپتان کے معاملات درست ہورہے ہیں ، ایسے میں بری شہرت کے حامل عبدالعلیم خان سے پیچھا چھڑانا ہی عمران خان کے نزدیک موزوں حکمت عملی ہے۔ اس سے پہلے جب جہانگیر ترین آٹا چینی سکینڈل میں پھنسے تھے تو عبد العلیم کو ددوبارہ سے پنجاب کابینہ میں شامل کرواگیا تھا تاکہ ان کی سیاسی اور مالی خدمات حاصل کی جاسکیں لیکن اب ترین کی دوبارہ اینٹری اور عبدالعلیم پر سنگین مقدمات کو دیکھتے ہوئے شاید ان سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی گالہ کی حدود میں پنجاب کے سنیئر وزیر کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ستمبر 2020 میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کا این او سی معطل کردیا تھا اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ وہ مجوزہ جگہ کا دورہ کرکے یقینی بنائیں کہ وہاں کوئی تعمیراتی کام نہ ہو۔ واضح رہے کہ پارک ویو سٹی ایک ناقابل رسائی علاقے زون فور میں تعمیر کیا جارہا تھا اور سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق سوسائٹی کے لیے زمین کے استعمال کی اجازت جون 2018 میں اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے عثمان اختر باجوہ نے دی تھی جو ان دنوں وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات ہیں۔ بعدازاں افضل لطیف کے بطور چیئرمین سی ڈی اے کی مدت کے دوران منصوبے کو سی ڈی اے کی زمین سے ملانے والی سڑک کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی یعنی علیم خان کی سوسائٹی کی ویلیو بڑھانے کے لئے سرکاری فنڈز سے سڑک بنوا کر دی گئی جس پر یہ کیس سننے والے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔اس پیشرفت کے بعد نیب لاہور نے بھی عوام الناس سے صوبائی وزیر علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کلیم وصولی کیلئے اشتہار جاری کیا تھا۔اشتہار میں عوام الناس کو ہدایت کی گئی ہےکہ وہ پارک ویوانتظامیہ کی جانب سے دھوکہ دہی کی شکایات نیب لاہور میں جمع کروائیں، نیب لاہور ریجنل بورڈ کی جانب سے علیم خان کے خلاف 1 ارب 40 کروڑ مالیت پر مشتمل ریفرنس کی منظوری دی جا چکی ہے۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ علیم خان کے خلاف ان کی ثابت شدہ آمدن سے 1 ارب 40 کروڑ مالیت کے زائد اثاثہ جات کا ریفرنس تیار کیا گیا ہے، ریفرنس میں علیم خان کے نام اندرون و بیرون ملک متعدد قیمتی اثاثہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے اب تک ذرائع نامعلوم ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق علیم خان کے خلاف تحقیقات میں ان کے دو مبینہ فرنٹ مین عمر فاروق اور عمیر کے ذریعے پارک ویو سوسائٹی میں ہیر پھیر کے شواہد حاصل کئے گئے ہیں، 400 سے 500 متاثرین کے پلاٹوں کو معروف ہائوسنگ سوسائٹی میں منتقلی کرتے ہوئے مذکورہ فرنٹ مین نے علیم خان کو کروڑوں روپے کا غیرقانونی انداز میں فائدہ پہنچایا، نیب قانون کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ملزم کو قید کی سزا کے علاوہ ناصرف ملزم کی تمام غیرقانونی جائیداد ضبط ہوتی ہے بلکہ ملزم کو اتنا ہی جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پارک ویوسوسائٹی کا این او سی کینسل کئے جانے کے خلاف دائر اپیل پر 18 جنوری 2021 کوسپریم کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو کا این او سی بحال کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل ابتدائی سماعت کے بعد ملتوی کر دی تھی۔ خیال رہے کہ 31 جنوری 2021 کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے عبد العلیم خان کی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس نیب کے حوالے کرنے کے فیصلے کو واپس لے لیا ہے۔یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے سپیکر سے ملاقاتوں کے بعد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے حکم امتناع کے نتیجے میں لیا گیا ہے جس میں علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی، میسرز پارک ویو سٹی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 20 جنوری کو نیب کو علیم خان کی سوسائٹی کے لیے ‘لے آؤٹ پلان کی بلاجواز بحالی’ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پارک ویو سٹی نے قومی خزانے کو 2 ارب 11 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ تاہم اس معاملے سے متعلق ہونیوالی مقدمہ بازی کو مد ںظر رکھتے ہوئے پبلک اکاونٹس کمیٹی نے اس پر مزید کارروائی روک دی ہے جسے بعض حلقے ن لیگ اور پی ٹی آئی کا مک مکا بھی قرار دیتے ہیں۔
