شرمیلا اور میرا کے بعد مہوش نے بھی بونگی مار دی

رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی اور اداکارہ میرا کی طرف سے قومی ترانے کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ منسوب کرنے کے بعد صدارتی تمغہ امتیاز یافتہ اداکارہ مہوش حیات نے بھی محمد اسماعیل الکرخی ندوی کے اشعار کو مفکر پاکستان علامہ اقبال کی شاعری قرار دے دیا جسکے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انھیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔

شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات اکثر و بیشتر اپنے مداحوں کو متوجہ کرنے کے لیے مختلف معمولات اپناتی رہتی ہیں تاہم بعض اوقات ان کی کئی تدبیریں الٹی بھی پڑ جاتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ اب مہوش حیات کے ساتھ ہوا یے۔ صدارتی تمغہ امتیاز یافتہ مہوش حیات اکثر کچھ نہ کچھ نیا کرتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مداح ان کو سراہتے ہیں بلکہ ان کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہتی ہیں۔ سماجی و سیاسی موضوعات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنے والی اداکارہ مہوش حیات نے اس مرتبہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر چند اشعار کے ساتھ شیئر کی۔تصویر تو دلنشیں تھی ہی تاہم مہوش کی ایک بونگی کے باعث یہ تصویر کچھ زیادہ ہی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ مہوش حیات نے اپنی تصویر کے ساتھ جو اشعار لکھے ان کا لکھاری علامہ اقبال کو قرار دے دیا مگر دراصل وہ اشعار محمد اسماعیل الکرخی ندوی نے تحریر کیے ہیں۔

مہوش حیات کی پوسٹ سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہی صارفین کی طرف سے دلچسپ تبصروں کا تانتا بندھ گیا جنہوں نے جہاں مہوش حیات کی تصویر کی تعریف کی، لباس کو موضوع بحث بنایا، عمدہ انتخاب پر ذوق کی داد دی وہیں کسی اور کی شاعری علامہ اقبال سے منسوب کرنے پر ان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

سلمان جاوید نامی ایک صارف نے مہوش حیات کی شخصیت کو اپنا موضوع گفتگو بنایا تو لکھا ’ناقابل یقین خوبصورتی اپنی بہترین صورت میں،‘

انڈین صارف پانڈے نیہا گفتگو کا حصہ بنے تو بتایا کہ وہ مہوش حیات کا ڈرامہ دل لگی دیکھ رہے ہیں۔ انعم نامی صارف نے مہوش حیات کی سرگرمی پر تبصرے میں لکھا ’بہت خوب، ذوق اچھا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ لباس، تصویر، شاعری یا شاعر، کس بات کے انتخاب پر ذوق کو اچھا قرار دے رہی ہیں۔

انجن شرما نامی صارف نے لکھا ’اردو نہیں سمجھ سکتا، لیکن خوبصورت تصویر دیکھ سکتا ہوں۔ بہت اعلی، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔‘

کچھ صارف مہوش حیات سے شاعری اور شاعر کے معاملے میں متفق دکھائی دیے تو کچھ نے تشریح کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ صداقت نامی ہینڈل نے لکھا ’آئینہ یا اس سے بننے والی چیزیں انتہائی عمدہ ہوتی ہیں، یہاں اقبال کہتے ہیں کہ ہمارے دل آئینے جیسے ہیں۔ اور اقبال نے سخت لفظوں سے دل توڑنے والوں کے خلاف پتھر اٹھائے ہیں۔

حقائق درست رکھنے کے خواہشمند گفتگو کا حصہ بنے تو انہوں نے مہوش حیات سے پوچھا کہ کیا وہ حوالہ دیں گی تا کہ ثابت ہع کہ یہ اشعار اقبال ہی کے ہیں۔ پھر لکھا کہ یہ کلام اقبال کا نہیں ہے۔ کسی بات کو پبلک کرنے سے پہلے اس کی چھان بین کر لینی چاہیے۔

فاخرہ انصاری نامی صارف نے علامہ اقبال سے غلط اشعار منسوب کرنے کا معاملہ آگے بڑھایا تو لکھا ’يہ محمد اسماعيل صاحب کی غزل کے اشعار ہيں۔ بہت معذرت، اقبال کے نہيں۔‘

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ 37 سالہ پاکستانی اداکارہ یا کسی اور عوامی شخصیت کو شاعری یا قول کسی دوسرے کے سر باندھنے کی کاوش پر خفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں وزیراعظم عمران خان سمیت کئی شخصیات اس ناخوشگوار تجربے سے گزر چکی ہیں جبکہ ماضی قریب میں معروف متنازعہ اداکارہ میرا تو قومی ترانے کو شاعر مشرق علامہ اقبال کی تخلیق قرار دے چکی ہیں۔۔ دوسری طرف چند روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی غلط شعر علامہ اقبال سے منسوب کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا نشانہ بن چکی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button