لال مسجد کے مولانا عبد العزیز پھر سرگرم ہوگئے

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز نے اسلام آباد کی انتطامیہ کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے جامعہ فریدیہ کے دورے سے لال مسجد اور دیگر منسلک اداروں کے ارد گرد ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
تازہ صورت حال کے پیش نظر لال مسجد اور مولانا عبد العزیز ایک بار پھر دارالحکومت کے منظر نامے پر چھا کی ہے۔ ان کے جامعہ فریدیہ کے دورے سے لال مسجد سے منسلک اداروں کے اردگرد ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حکومت نے نو فروری کو مولانا عبد العزیز کی ایک بیٹی اور کچھ خواتین کو مبینہ طور پر حراست میں بھی لیا تھا، جس سے دارالحکومت کے کئی حلقوں میں سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ ان خدشات کے پیش نظرحکومت کی طرف سے جامعہ حفصہ، جامعہ فریدیہ اور لال مسجد کے اردگرد ایک بار پھر سکیورٹی سخت کردی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو کئی علاقوں میں آنے جانے میں دشواری ہو رہی ہے۔ لال مسجد کی طرف جانے والی سڑک پر خاردار تاریں، ٹینٹس اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور پولیس کی نفری بھی وہاں موجود ہے۔ اسی طرح جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ کے اردگرد بھی پولیس سکیورٹی موجود ہے۔
تازہ تنازعے کے حوالے سے مولانا عبد العزیز نے بتایا، ‘میں نے کچھ دنوں پہلے جامعہ فریدیہ کا دورہ کیا تھا، تو حکومت نے میری بیٹی اور کچھ خواتین کو حراست میں لے لیا تھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں نہ لال مسجد جاؤں اور نہ جامعہ فریدیہ جاؤں۔ وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کیوں کہ میں اس نظام کے خلاف ہوں۔‘ مولانا عبدالعزیز کے داماد ہارون غازی نے بتایا کہ ان کی بیوی اور دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ‘ایسا لگتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ مولانا عبدالعزیز خود باربار ریاست کےلیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ماضی میں لال مسجد کے مقدمات لڑنے والے طارق اسد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے ہر ایک سے جھگڑا مول لیا۔ ‘انہوں نے اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے اپنے بھانجے مولانا عامر صدیق کو لال مسجد کی خطابت سے ہٹوایا۔ جامعہ فریدیہ پر قبضہ کرکے مولانا عبدالغفار کو وہاں سے ہٹوایا۔ جامعہ حفصہ کے اردگرد سرکاری زمین پر قبضہ کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے باربار ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا لیکن ریاست ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی، جو بڑی عجیب بات ہے۔‘ کچھ ماہ پہلے مولانا نے جامعہ فریدیہ نامی ایک مدرسے پر مبینہ طور پر قبضہ کرکے وہاں کے مہتم مولانا عبدالغفار کو ہٹا دیا۔ مولانا عبدالغفار ماضی میں مولانا عبدالعزیز کے قریب رہے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے مولانا کے اس اقدام کو ہدف تنقید بنایا لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ اس قبضے سے کچھ عرصے پہلے اسلام آباد کے ایچ الیون علاقے میں انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کے ایک مدرسے کی تعمیر رکوائی۔ مولانا نے دعوی کیا کہ اس تعمیر پر ان کے ایک کروڑ سے زائد کی رقم خرچ ہوئی تھی۔ سرکاری حلقوں میں اُس وقت یہ بات گردش کررہی تھی کہ حکومت سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ایچ الیون میں مدرسے کی تعمیر نہیں چاہتی۔ مولانا نے اس تنازعے کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ اگر حکومت ایچ الیون میں جامعہ حفصہ کےلیے دیے گئے پلاٹ کو واپس لینا چاہتی ہے تو وہ اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے قیمت ادا کرے، جو اربوں روپے میں بنتی ہے۔ حکومت اور لال مسجد کی اس کشیدگی میں عام آدمی پس رہا ہے۔ لال مسجد کے ایک قریبی رہائشی ارسلان اعوان نے بتایا، ‘روزانہ بیس سے پچیس منٹ مجھے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ علاقے میں کھڑی رکاوٹیں جانے کب ہٹائی جائیں گی۔ میں یا کوئی عام آدمی اس طرح پولیس کو چیلنج کرے تو ہمارا مار مار کے بھرکس نکال دیا جائے گا لیکن مولانا کے خلاف حکومت کچھ نہیں کرتی۔‘ پچپن سالہ ٹھیلے والا کریم خان کا کہنا ہے کہ اب آئے دن یہاں مسئلہ کھڑا رہتا ہے۔ مجھے گھوم کر اپنے گاہوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ پتہ نہیں یہ مسئلہ کب حل ہوگا۔ رکاوٹوں کی وجہ سے ہفتہ وار بازار میں بھی لوگوں کو پرشانی ہوتی ہے لیکن عوام کی کون سنتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button