لاہور، ایک ہی خاندان کے 17 افراد میں کرونا کی تصدیق، علاقہ سیل

لاہور میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد میں کورونا کی تصدیق ہو گئی۔متاثرہ افراد میں 6 مرد،6 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں، متعلقہ علاقے کی چار گلیوں کو سیل کر دیا گیا ہے.
لاہور کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں۔لاہور کے 15 سے زائد علاقوں میں زیادہ کرونا وائرس پھیل گیا ہے۔ اور ان علاقوں میں کورونا کے مزید کیسز سامنے آ رہے ہیں۔لاہور کے علاقے فرخ آباد میں کرونا کے مزید 17 کیسز کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ایک ہی خاندان کے 6 مرد ۔6 خواتین اور 5 بچے کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔کرونا وائرس کے شکار افراد کو میو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔بعد ازاں مرد حضرات کو ایکسپوسینٹر منتقل کیا جائے گا۔خاندان کے تین افراد نے نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا تھا۔جس کے بعد خاندان کے دیگر افراد کے بھی ٹیسٹ کروائے گئے۔ جن میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی. سترہ افراد میں کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد چارگلیاں سیل کردی گئے ہیں۔
متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والے دیگر افراد کو بھی کرونا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ قبل ازیں لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں ایک ہی گھر کے 10 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد گھر کے تمام افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
گھر کے 10 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد گھر کی خواتین کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مردوں کو ایکسپو سینٹر میں قائم فیلڈ ہسپتا ل میں منتقل کیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد ٹاؤن شپ کے ڈی ٹو سیکٹر کی گلی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جس کے بعد پولیس کی نفری کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مریضوں کی تصدیق کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پوری گلی میں جراثیم کش سپرے کروانا شروع کر دیا ہے ۔ اس کےعلاوہ گلی کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے گئے ہیں اور کسی بھی شخص کو گلی کے اندر جانے یا باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے.
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسلام آباد میں ایک ہی گھر کے 7افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو ئی تھی۔ گھر کے سربراہ مدرسے میں خطیب تھے قائم علی شاہ کے والد کی تین دن قبل ہی کرونا وائرس کے باعث موت ہوئی تھی۔جس کے بعد مدرسے میں خطیب کے گھر والوں کے کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق مسجد اور مدرسے کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد مسجد اور مدرسہ کو مکمل سیل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے 24 اپریل کو ختم ہونےو الے لاک ڈاؤن میں یکم مئی تک توسیع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے ۔ اس بارے میں ذرائع کا کہناہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری دفاترمیں کام کی مشروط اجازت اور ایکسپورٹ سے منسلک مزید صنعتوں کو کام کی اجازت دیئے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ تجویز وفاقی حکومت کو پیش کر دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button