کراچی میں مقامی سطح پر منتقل ہونیوالے کرونا کیسز ایک ہزار سے متجاوز

ایک ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے باوجود کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار تھم نہ سکی، جہاں مقامی سطح پر منتقلی کے مریضوں کی تعداد 30 روز میں 88 سے بڑھ کر ایک ہزار 3 سو ہوگئی ہے۔
حکام کے مطابق کراچی میں کووِڈ-19 کے مجموعی اعداد و شمار 23 مارچ کے ایک سو 50 مریضوں سے بڑھ کر 2 ہزار 2 سو تک پہنچ گئے۔
سندھ حکومت نے 22 مارچ کو عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے 23مارچ سے ابتدائی طور پر 15دن تک کے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومتی عہدیداران اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں سے اجلاس کے انعقاد کے بعد صوبے کو لاک ڈاؤن کرنے کے تحت لوگوں کو کسی ٹھوس وجہ کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے اعلان سے متعلق پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ پابندیوں کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقامی سطح پر کووڈ-19 کی منتقلی کے کیسز پھیل رہے ہیں اور ہمیں اسے روکنا ہے ورنہ ہر چیز قابو سے باہر ہوجائے گی۔
23 مارچ کو کراچی میں کووڈ-19 کے ایک سو 33 مصدقہ کیسز میں 88 مقامی سطح پر منتقلی کے تھے جو اب مجموعی طور پر 2 ہزار 2 سو 7 پر پہنچ گئے ہیں ان میں سے 13 سو مقامی سطح پر منقلی ہیں۔ مذکورہ تعداد سے پتہ چلتا ہے بیرون ملک کی سفری تاریخ نہ رکھنے والے افراد کی تعداد میں 1000گنا اضافہ ہوا اور وہ صرف اپنے سماجی رابطوں کے ذریعے وائرس سے متاثر ہوئے۔ لاک ڈاؤن کو ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہونے سے متعلق صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔ تاہم ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کی صورت میں مثبت کیسز کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی تھی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے مطلوبہ نتائج پورے نہیں ہوئے اور مقامی سطح پر منتقلی کی بات آئے تو صورتحال کو ‘بدترین’ قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ روز جاری ویڈیو پیغام میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ یہ معمولی صورتحال نہیں ہے اور ہمیں اضافی احتیاط اور توجہ سے اس سے نمٹنا ہوگا۔
خیال رہے کہ نہ صرف وزیراعلیٰ سندھ بلکہ طبی ماہرین اور سائنسدان بھی موجودہ رجحان کو اچھا قرار نہیں دے رہے۔
تاہم طبی ماہرین صوبائی حکومت کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہیں جس نے کسی حد تک وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار پر قابو میں رکھا ہے۔
میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر نے کہا کہ یہ آرام کرنے کا وقت نہیں ہے، وائرس کا پھیلاؤ عروج پر نہیں پہنچا لیکن اس میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی کورونا وائرس کا علاج نہیں کرسکتا لیکن اس کے پھیلنے سے روک سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے رابطہ ہی اس کے پھیلاؤکا واحد ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر سہیل اختر نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے سے میل جول کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
خیال رہے کہ سندھ میں ایک تک جاری رہنے والی سماجی فاصلے کی مہم کے بعد 23 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔
13 مارچ سے جاری سماجی فاصلے کی مہم میں آئندہ 2 ماہ کے لیے اسکولزسمیت عوامی مقامات، شاپنگ مالز، مارکیٹس، بڑے کاروباری مقامات، سنیما، پارکس اور دیگر عوامی مقامات بند کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ تاہم مکمل لاک ڈاؤن سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں مشکلات کا شکار ہوگئیں، ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اگرمہینوں نہ بھی لگیں تو بھی وائرس کے پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے معمولات زندگی کی بحالی میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔
محکمہ صحت کے عہدیدار نے کہا کہ کراچی کے مختلف اضلاع میں مقامی سطح پر منتقلی کے مختلف رجحانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں ضلع شرقی میں مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز زیادہ ہیں، اس کے بعد ضلع غربی، کورنگی، جنوبی اور وسطی میں یہ رجحان ہے۔
